1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سیلاب زدہ علاقوں میں کاشتکاروں کی مشکلات

پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں کاشتکاروں کو ربیع کی فصل کی کاشت میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے اورآئندہ سیزن میں گندم، کینولا اور چنے کی فصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی ہونے کا امکان ہے۔

default

کاشتکاروں کو آسان شرائط پر قرضوں کی ضرورت

زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں زرعی پیداوار میں اضافے کا ہدف اس سال بھی پورا نہیں ہو سکے گا۔اس سے پہلے سیلاب زدہ علاقوں میں خریف کی فصلیں چاول، کپاس ، گنا اور سبزیاں وغیرہ بری طرح متاثر ہوئی تھیں۔

پاکستان ایگری فورم کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سیلاب کی وجہ سے خریف کی فصلوں کی پیداوار میں ہونے والی کمی کی وجہ سے اس سال پاکستان کو دس لاکھ ٹن چینی، بیس لاکھ کپاس کی گانٹھیں اور اڑھائی لاکھ ٹن چنے درآمد کرنا پڑیں گے۔

Pakistan Flut Katastrophe 2010

زرعی شعبے میں امدادی کارروائیاں انتہائی سست روی کا شکار ہیں

پاکستان ایگری فورم کے صدر محمد ابراہیم مغل نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ پاکستان میں پچاس لاکھ ایکڑ زرعی رقبہ سیلاب سے متاثر ہوا ہے۔ کئی علاقوں میں ابھی تک کھیتوں میں سیلابی پانی کھڑا ہے۔ کاشتکاروں کے زرعی آلات ناکارہ ہو چکے ہیں۔ مویشیوں کے لئے چارہ نہیں مل رہا اور کاشتکاروں کے پاس بیج ، کھاد اور زرعی ادویات خریدنے کے لئے پیسے بھی نہیں ہیں۔

ضلع لیہ کے ایک کاشتکار تنصیر شاہ کے مطابق بعض علاقوں میں سیلابی پانی کی وجہ سے زرعی زمینوں کی حد بندیاں مٹ گئی ہیں جبکہ پانی کے ہزاروں کھالے سیلاب کی نذر ہو چکے ہیں۔ابراہیم مغل کے مطابق ان حالات میں پچاس ہزار ایکڑ رقبے پر فصل کی کاشت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

سیلاب زدہ علاقوں میں فوری طور پر DAP کھاد کے ایک کروڑ تھیلوں، یوریا کھاد کے دو کروڑ تھیلوں، تیس ہزار سے زائد ٹریکٹروں اور دیگر زرعی آلات کی فوری ضرورت ہے۔ ان کے مطابق کاشتکاروں کو آسان شرائط پر قرضے فراہم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

پاکستان ایگری فور م کے سربراہ کے مطابق زرعی شعبے میں امدادی کارروائیاں انتہائی سست روی کا شکار ہیں۔ ان کے بقول حکومتی اہلکار کمیشنوں کے چکر میں تعمیراتی امور پر زیادہ توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس