1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سیلاب زدہ علاقوں میں عید کی خوشیاں ماند

مسلمانوں کے لئے عیدالفطر خوشی کا ایک تہوار ہے۔ تاہم پاکستان میں حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد وہاں متاثرہ علاقوں میں عید کی خوشیاں خواب بن کر رہ گئی ہیں۔

default

وہ علاقے جہاں عید بازار لگا کرتے تھے، وہاں اب ریلیف کیمپ دکھائی دیتے ہیں۔ جو ہاتھ ہر چاند رات کو مہندی سے سجے ہوتے تھے، وہ اب خیراتی امداد کے حصول کیلئے پھیلے نظر آتے ہیں۔ اﷲکی راہ میں عید کے موقع پر دل کھول کر دینے والے لوگ آج کل سیلاب زدہ علاقوں میں خود زکوٰۃ وصدقات کا انتظار کر رہے ہیں۔ وہاں میٹھی عید کے مزیدار پکوانوں کے بجائے خشک راشن اور دوائیوں کے مطالبے سننے میں آ رہے ہیں۔ کئی علاقوں میں تو جانوروں کوبھی چارہ میسر نہیں۔

لیہ کے ایک سماجی کارکن عباس بھٹی نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں کے با اثر اور امیر لوگ تو عید کے موقع پر بڑے شہروں کو چلے گئے ہیں لیکن سیلاب زدہ علاقوں کے غریب لوگوں کا حال بہت برا ہے۔

ضلع مظفر گڑھ کے ایک رہائشی عمر دراز نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ کئی فلاحی تنظیمیں عید کے موقع پر امدادی سامان لے کر جنوبی پنجاب کے متاثرہ لوگوں کے پاس پہنچ رہی ہیں۔ تا ہم ان کے مطابق حکومتی اداروں کی امداد کہیں بھی دیکھنے میں نہیں آ رہی ۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرین سیلاب کو عید سے چند روز پہلے زبردستی امدادی کیمپوں سے ان کے ایسے رہائشی علاقوں میں منتقل کر دیا گیا تھا جہاں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔ سیلاب زدہ علاقوں میں واپس جانے والے کئی لوگوں کو حکومتی وعدوں کے مطابق پندرہ دن کا راشن اور ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی نہیں مل سکی تھی۔

Überschwemmung in Pakistan

پاکستان کا وسیع رقبہ زیرآب ہے

حکومت نے عید سے پہلے ہر متاثرہ خاندان کو بیس ہزار روپے امداد دینے کا اعلان کیا تھا، لیکن یہ وعدہ بھی ابھی تک وفا نہیں ہو سکا۔

سیلاب زدہ علاقوں میں کہیں بچھڑنے والوں کا غم طاری ھے اور کہیں مال و اسباب کی تباہی کا دکھ ہے۔ ہر طرف سوگ کی سی کیفیت نظر آ رہی ہے۔ اس صورتحال میں اس برس عید ایک المیے کا روپ دھار چکی ہے ۔

اگرچہ پاکستان کے صدر، وزیر اعظم اور اعلیٰ حکومتی شخصیات نے عید الفطر سیلاب کے متاثرین کے ساتھ منانے کا اعلان کر رکھا ہے لیکن اکثر متاثرین کو خدشہ ہے کہ اہل اقتدار کے متاثرہ علاقوں کے دورے فوٹو سیشن سے زیادہ اہمیت کے حامل نہیں ہوں گے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس