1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سیلاب زدہ علاقوں میں حکومت کی حکمت عملی

پنجاب کے گورنر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سلمان تاثیر نے کہا ہے کہ اتبدائی تخمینے کے مطابق صرف صوبہ پنجاب میں سیلاب سے ہونے والا نقصان تین ارب ڈالر سے زیادہ ہے ۔

default

سیلاب زدہ علاقوں کی تعمیر نو حکومت کے لئے ایک بڑا چیلنج

سلمان تاثیر کے بقول دنیا بھر سے ملنے والی امداد اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی طرف سے آسان شرائط پر ملنے والے قرضوں کے بعد یہ امید ہو چلی ہے کہ حکومت سیلاب زدگان کے نقصان کو کسی حد تک پورا کرنے میں ضرور کامیاب ہو جائے گی۔ ڈوئچے ویلے سے خصوصی انٹر ویو میں سلمان تاثیر نے کہا کہ حکومت کی خواہش ہے کہ سیلاب سے متاثرہ ہر گھر کو کم از کم ایک لاکھ روپے فراہم کئے جائیں۔ وفاقی کابینہ کے فیصلے کے مطابق ابتدائی طور پر متاثرہ علاقوں میں نقد رقوم کی تقسیم شروع ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق بینیظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت بھی سیلاب سے متاثرہ خواتین کی امداد کیلئے دس ارب روپے متخص کر دئے گئے ہیں۔

Flutkatastrophe in Pakistan

امدادی اشیاء کی تقسیم منصفانہ طور پر نہیں ہو رہی ہے

متاثرین کو فراہم کی جانے والی امداد کی تقسیم کے حوالے سے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں سلمان تاثیر نے بتایا کہ اس ضمن میں شفافیت کو برقرار رکھنے کیلئے حکومت نادرا کے کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا سے مدد لے گی اور امدادی رقوم آئی ڈی پیز کی طرح متاثرین کے بنک اکاونٹس میں خود جمع کرائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومتوں کو صرف صوبائی نقصانات یعنی سکولوں اور ہسپتالوں کی تعمیر کیلئے فنڈز فراہم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا اس وقت قومی اور صوبائی اسمبلی کے تمام ممبران متاثرین کی مدد کیلئے فیلڈ میں موجود ہیں اگرچہ ان کی خبریں میڈیا پر نہیں آ رہیں لیکن یہ سب جانتے ہیں کہ ان ارکان پارلیمنٹ کے سیاسی مستقبل کا انحصار سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی مدد پر ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اگر پیپلز پارٹی کے علاقوں میں متاثرین سیلاب کی مدد کر کے سیاسی فائدے حاصل کرنا چاہتی ہے تو انہیں یہ شوق پورا کر لینا چاہئے۔

Asif Ali Zardari Präsident Pakistan

موجودہ حکومت غیر معمولی دباؤ میں

ایک اور سوال کے جواب میں سلمان تاثیر نے بتایا کہ سیلاب کی وجہ سے حکومت کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ "فوج نے ایک حکومتی ادارے کے طور پر سیلابی علاقوں میں اچھا کام کیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ فوج نظام حکومت بھی اچھا چلا سکتی ہے"۔ ان کے مطابق قوم فوجی حکمرانی کی اینٹی بائیوٹیک تین مرتبہ استعمال کر چکی ہے مگر اسے کبھی افاقہ نہیں ہوا۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صدر مملکت اور وزیراعظم متاثرہ علاقوں کی بحالی کے بعد ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے اگر قومی بات چیت کا آغاز کریں تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے بلکہ نئے ڈیموں کی تعمیر سے ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔

رپورٹ: تنویر شہزاد لاہور

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس