1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سیلاب زدگان کے لئے کم لاگت کے مکانوں کا منصوبہ

جرمنی کے ایک ماہر تعمیرات نے پاکستان میں سیلاب زدگان کے لئے مٹی سے بنے کم لاگت والے ایسے ماحول دوست گھر متعارف کروائے ہیں، جو سیلاب زدہ دیہی علاقوں میں انتہائی قلیل مدت میں آسانی سے تعمیر کئے جا سکتے ہیں۔

default

جرمنی کے ممتاز ماہر تعمیرات پروفیسر ڈاکٹر نوربرٹ پنچ کے ڈیزائن کردہ کچے مکانوں کے منصوبے کو اسلام آباد میں جرمن ایمبیسی اور ایک غیر سرکاری تنظیم سوسائٹی فار دی پروموشن آف آرٹ اینڈ کلچر (سپارک) کی معاونت حاصل ہے۔

Prof Dr Norbert Pintsch

ڈاکٹر نوربرٹ پنچ سولر کُکر کے ساتھ

پروفیسر نوربرٹ نے طویل تحقیق کے بعد کچی مٹی سے بنے گھروں کے تین نمونے متعارف کروائے ہیں۔ ان گھروں کی تیاری میں مٹی کی کچی اینٹیں، پولی تھین شیٹس ، بانس اور لکڑی استعمال کی جاتی ہے۔ پروفیسر نوربرٹ بتاتے ھیں کہ کچی مٹی سے بنے مکان سردیوں میں گرم اور گرمیوں میں سرد رہتے ھیں۔ اس طرح ان سستے گھروں کی تعمیر سے بجلی پر اٹھنے والے اخراجات بھی کم کئے جا سکتے ھیں۔ کم لاگت والے ان گھروں کو پیرزادہ کلچرل کمپلیکس میں نمائش کے لئے پیش کر دیا گیا ہے۔

رفیع پیر تھیٹر کے فیضان پیرزادہ بتاتے ہیں کہ ان گھروں کا سامان دیہی علاقوں میں آسانی سے دستیاب ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان گھروں کی تعمیر میں سیمنٹ اور لوہا استعمال نہیں ہوتا، اس لئے ان پر لاگت بہت کم آتی ہے۔

سپارک کے سربراہ انیس یعقوب کا کہنا ہے کہ حکومت کم لاگت کے ایسے ماحول دوست گھروں کی تعمیر کو فروغ دے کر سیلاب زدگان کی بہت مدد کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق ان گھروں کی تعمیر سے ناصرف وسائل بچائے جا سکتے ہیں بلکہ دیہی ثقافت کو بھی محفوظ کیا جا سکے گا۔

Prof Dr Norbert Pintsch

ڈاکٹر نوربرٹ پنچ

محمد اقبال نامی ایک ٹھیکیدار کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں اپنی مدد آپ کے تحت پروفیسر نوربرٹ کا ڈیزائن کردہ ایک مضبوط گھر پچاس ہزار روپے میں بنایا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ پنجاب حکومت تین لاکھ روپے کا ایک گھر تعمیر کرکے دے رہی ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ پروفیسر نوربرٹ نے کچے گھروں کے لئے شمسی توانائی سے چلنے والے کھانا پکانے کے آلات اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی ایک چھوٹی مشین بھی تیار کی ہے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: ندیم گِل

DW.COM