1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سیلاب زدگان کی امداد کے لئے کون کیا کر رہا ہے؟

پاکستان میں ہزاروں متاثرینِ سیلاب مختلف مقامات پر کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ سرکاری سطح پر لگائے گئے کیمپوں اور اور غیرسرکاری تنظیموں کے کیمپوں کا فرق واضح ہونا شروع ہوگیا ہے۔

default

پاکستانی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی جانے سے سکھر کے قریب شکار پور بائی پاس پر قائم کیا گیا ایک کیمپ اصطبل کا منظر پیش کررہا ہے، جہاں بچے، بوڑھے، خواتین اور جانوروں کو ایک ہی جگہ پر کھانے پینے کی سہولیات فراہم کی

Pakistan Überschwemmung Flutkatastrophe Flüchtlingslager bei Karachi

سرکاری اور غیرسرکاری کیمپوں میں یکساں سہولتیں دستیاب نہیں

جارہی ہے۔ اس کی نسبت قریب ہی قائم ایک این جی او کے کیمپ میں متاثرین کو نہایت منظم انداز میں تمام بنیادی ضرورتیں فراہم کی جارہی ہیں۔ وزیرخزانہ کے اس کیمپ کی نگرانی کرنے والے ان کے کارکن میڈیا کے نمائندوں کو کیمپ میں رہنے والوں سے بات نہیں کرنے دیتے۔ جب ہم نے وہاں پر موجود کچھ لوگوں کو سرکاری کیمپ سے باہر بلا کر بات کی تو انہوں نے شکایات کے انبار لگا دیے اور سہولتوں کی عدم فراہمی کی بات کی۔

اس کے قریب قائم ایک این جی او کے کیمپ میں موجود لڑکی نے نہایت پر عزم انداز میں متاثرین کو حاصل سہولیات کی تفصیل بتائیں۔

متاثرین کی شکایت اپنی جگہ لیکن سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو بین الاقوامی سطح پر وعدوں کے باوجود مالی امداد کی فراہمی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ ان مشکلات کی ایک بڑی وجہ حکومت کی ساکھ بتائی جاتی ہے

Pakistan nach der Flut

حکومتی کیمپوں میں سہولتوں کی عدم دستیابی کی وجہ فنڈز کا نہ ہونا بتایا جاتا ہے

جبکہ امریکہ سمیت متعدد یورپی ممالک یہ اعلان بھی کرچکے ہیں کہ امداد کا بڑا حصہ این جی اوز کے ذریعے فراہم کیا جائے گا۔ سٹی پولیس لائزن کمیٹی بھی سیلاب زدگان کے لئے امدادی کیمپوں کا نظام سنبھالے ہوئے ہے۔ حکومتی کیمپوں کی نسبت این جی اوز کے کیمپوں کی بہتر حالت کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر سی پی ایل سی کے سربراہ احمدچنائے نے بتایا کہ بین الاقوامی سطح پر حکومت کی نسبت این جی اوز پر زیادہ اعتماد کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک امداد کا بڑا حصہ این جی اوز کے ذریعے متاثرین سیلاب پر خرچ کرنا چاہتے ہیں۔

سیلاب زدگان کیلئے کام کرنے والی ایک اور این جی او کی سرگرم رکن عنبر علی کا کہنا ہے کہ حکومت میں نہ اونر شپ کا احساس اور نہ احتساب جبکہ این جی او میں احتساب کا عمل کڑا ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان پر اعتماد کیا جاتا ہے۔

رپورٹ: رفعت سعید، کراچی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس