1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سیلاب زدگان کا معاون اور غمگسار : ایف ایم ریڈیو

سیلاب زدہ علاقوں میں ایف ایم ریڈیو ابلاغ عامہ کا واحد ذریعہ بن چکا ہے۔ متاثرین سیلابی آفت کی اس گھڑی میں اپنا ریڈیو ساتھ رکھنا نہیں بھولتے۔

default

سیلاب زدگان کے لیے ایف ایم ریڈیو ابلاغ عامہ کا واحد ذریعہ

سیلابی ریلا کب آسکتا ہے، کیمپ کہاں لگے ہیں، موسم کیسا رہےگا، دور دراز کے علاقوں میں پانیوں میں پھنسے سیلاب زدگان کو یہ ساری معلومات صرف ایف ایم ریڈیو سے ہی مل رہی ہے۔ اگرچہ سرکاری اداروں کی طرف سے ایف ایم ریڈیوز کی اہمیت کا اعتراف نہیں کیا جا رہا ہے لیکن ایف ایم ریڈیوز کی نشریات ان سیلابی مقامات تک بھی پہنچ رہی ہیں جہاں ابھی تک فوج اور امدادی ادارے نہیں پہنچ پائے۔

ماہر ابلاغیات پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کے مطابق دیہات میں اخبارات کی سرکولیشن پہلے ہی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ٹی وی کی نشریات نہیں دیکھی جا سکتیں۔ پانی میں گھری بستیوں میں مساجد کے لاوڈ سپیکر اور ٹیلیفون بھی کام نہیں کر رہے۔ ایسے میں سیلاب زدہ علاقوں میں ایف ایم ریڈیومتاثرہ علاقوں کے لیے معلومات تک رسائی اور رہنمائی کا واحد زریعہ بن گیا ہے ۔

Überschwemmung in Pakistan

متاثرین سیلابی آفت کی اس گھڑی میں اپنا ریڈیو ساتھ رکھنا نہیں بھولتے

ایف ایم سولو 89 لیہ کے چیف ایگزیکٹو محمد پرویز بتاتے ہیں کہ انہوں نے سیلاب زدگان کیلئے خصوصی میراتھون نشریات شروع کر رکھی ہیں وہ اپنے سننے والوں کو لمحہ بہ لمحہ سیلاب کے بارے میں اطلاعات پہنچاتے ہیں۔ وہ سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگوں کی اطلاعات انتظامیہ تک پہنچانے اور سیلابی علاقوں میں پھیلنے والی افواہوں کا اثر زائل کرنے کیلئے بھی کام کر رہے ہیں۔

ایف ایم ریڈیو جیوے پاکستان رحیم یار خان کے اسٹیشن ڈائریکٹر ناصح الدین نے بتایا کہ وہ اپنے پروگراموں میں براہ راست متاثرین کی ٹیلیفون کالز لیتے ہیں’’ہم لوگوں کو ترغیب دیتے ہیں کہ وہ حکومت کا انتظار کرنے کے بجائے خود ایک دوسرے کی مدد کریںِ‘‘۔

Dossierbild 3 Pakistan Flut

ایف ایم ریڈیوز کی نشریات ان مقامات تک بھی پہنچ رہی ہیں جہاں ابھی تک امدادی ادارے نہیں پہنچ پائے

جنوبی پنجاب کے بیشتر اضلاع میں سنے جانے والے ایف ایم 99 کےچیف ایگزیکٹو طارق ہاشمی کہتے ہیں کہ حالیہ بارشوں سے ایف ایم ریڈیو کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے ۔ خود انکے ریڈیو اسٹیشن کے ٹاور گر گئے ہیں۔ کئی علاقوں میں ٹرانسمیٹر بھی سیلاب کی نذر ہو گئے ہیں۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے جنریٹر کے ذریعے نشریات کو جاری رکھنا انہیں خاصا مہنگا پڑ رہا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب میں ایف ایم ریڈیوز معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ انہیں اشتہارات نہیں مل رہے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں تک پبلک سروس پیغامات پہنچانے کیلئے پروگراموں کو سپانسر کریں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں سرکاری ادارے ایف ایم ریڈیوز کو ضروری اطلاعات فراہم نہیں کر رہے۔

ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کے مطابق ایف ایم ریڈیوز کو علاقائی زبانوں میں سیلاب زدگان کیلئے خصوصی پروگرام تیار کرنے چاہئں ۔ اس حوالے سے ایف ایم ریڈیو کیلئے کام کرنے والے صحافیوں کیلئے "سیلابی آفت کی رپورٹنگ" کے حوالے سے خصوصی تربیتی ورکشاپس کا اہتمام کیا جانا چاہئے۔

رپورٹ : تنویر شہزاد

ادارت : عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس