1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سیلابی پانی سے بھارت میں کئی ملین شہری متاثر

بھارتی حکام نے کہا ہے کہ شمالی اور مشرقی بھارت میں سیلابی پانی کے ریلوں نے کئی ملین افراد کو متاثر کیا ہے اور وہ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

default

حکام کا کہنا ہے کہ پانی دریاؤں کے کناروں سے بہہ نکلا ہے، جس کے نتیجے میں آنے والا سیلاب سڑکیں بہا کر لے گیا ہے اور امدادی کاموں میں شدید رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔

امدادی کارکن متاثرین کی تازہ تعداد 5.2 ملین بتا رہے ہیں۔ یہ تعداد دَس روز پہلے کے اعداد و شمار کے مقابلے میں دگنی ہے۔

مون سون کا سیزن اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بھارتی ریاستوں اُتر پردیش، بہار اور آسام میں شدید بارشیں ہوئی ہیں اور گزشتہ تین ماہ کے اندر اندر ان ریاستوں میں سیلاب کے نتیجے میں 158 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بھارت میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس کے نمائندے John Roche نے بتایا: ’’سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد گزشتہ دَس روز میں دگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ ہم نے حالات کا زیادہ درست اندازہ لگانے کے لیے ٹیمیں روانہ کی ہیں لیکن ہمیں لگتا ہے کہ حالات ہمارے اندازوں سے بھی زیادہ خراب ہوں گے۔‘‘

وسطی بھارت کی ریاست اُتر پردیش سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ ریاستی حکومت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ وہاں اب تک 125 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد تقریباً دو ملین ہے۔

ریاست کے ریلیف کمشنر کے کے سنہا نے بتایا:’’متاثر ہونے والے 29 اضلاع میں سے دَس میں حالات بہت نازُک ہیں۔‘‘ اُنہوں نے مزید بتایا کہ اِس ریاست میں تقریباً 70 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ تقریباً تین لاکھ پانچ سو ہیکٹر رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔ تباہ شُدہ زیادہ تر رقبہ وہ ہے، جہاں چاول کاشت کیا گیا تھا۔

Indien Flut September 2010

متاثرین کی تعداد پانچ ملین سے زائد بتائی جا رہی ہے

حکام کا کہنا ہے کہ ریاست آسام سے گزرنے والے اور پھر بنگلہ دیش میں داخل ہو جانے والے دریائے برہم پترا میں پانی کا بہاؤ بدستور خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے۔

اُتر پردیش اور آسام کے درمیان واقع ریاست بہار میں، جہاں تقریباً 2.6 ملین افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے، بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ اِس کے باوجود جمعہ دو ستمبر کو سینکڑوں مشتعل دیہاتیوں نے امداد نہ ملنے پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ بہار کے متاثرہ علاقے بھوجپور میں ضلعی مجسٹریٹ کے دفتر کے باہر مظاہرے میں شریک ایک بزرگ نیتو دیوی نے صحافیوں کو بتایا:’’ہمیں بھوکا مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ ہماری دیکھ بھال کرنے والا کو‌‌‌‌ئی بھی نہیں ہے۔‘‘

رپورٹ: امجد علی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس