1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سیف السلام کو ہمارے حوالے کیا جائے، عالمی فوجداری عدالت

بین الاقوامی فوجداری عدالت آئی سی سی نے زور دیا ہے کہ لیبیا کے حکام سابق رہنما معمر قذافی کے بیٹے سیف السلام کو اس کے حوالے کریں۔ سیف السلام جنگی جرائم کے الزام میں اس عالمی عدالت کو مطلوب ہیں۔

default

سیف اسلام

آئی سی سی کے مطابق اس کے مستغیثِ اعلیٰ لوئس مورینو اوکامپو آئندہ ہفتے لیبیا کا دورہ کریں گے۔ اس دوران وہ طرابلس حکام کے ساتھ اس معاملے پر بات کریں گے کہ سیف السلام کے خلاف مقدمہ ’کہاں اور کیسے‘ چلایا جائے۔

لوئیس مورینو کی ترجمان فلورنس اولارا نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’’ہم لیبیا کی وزارتِ انصاف کے ساتھ رابطہ رکھے ہوئے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکےکہ سیف الاسلام کی گرفتاری قانون کے دائرے میں رہے۔‘‘

آئی سی سی کے ترجمان فادی العبداللہ کے مطابق لیبیا کے حکام پر لازم ہے کہ وہ عالمی فوجداری عدالت کے ساتھ تعاون کریں اور لیبیا پر اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت اسے (سیف السلام کو) اس عدالت کے حوالے کریں۔

انہوں نےکہا: ’’اگر وہ لیبیا میں ٹرائل کے خواہاں ہیں، تو انہیں دی ہیگ میں مقدمے کی منسوخی کے لیے درخواست دینا ہو گی جبکہ لیبیا میں یہ مقدمہ انہی الزامات کے تحت چلے گا، جو آئی سی سی کی جانب سے جاری کیے گئے وارنٹ گرفتاری میں درج ہیں۔‘‘

Saif al-Islam Gaddafi / Festnahme / Libyen

سیف السلام (بائیں) کو گرفتاری کے بعد مال بردار طیارے میں زنتان منتقل کیا جا رہا ہے

لیبیا کی عبوری حکومت نے کہا ہے کہ سیف السلام کے خلاف عدالتی کارروائی شفاف ہو گی۔ سیف السلام گزشتہ کئی ہفتوں سے مفرور تھے اور انہیں ملک کے جنوبی صحرا سے گرفتار کیا گیا۔

ا‌ُدھر امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ سیف السلام کے ساتھ غیرانسانی سلوک نہ کیا جائے۔ نیٹو، برطانیہ، فرانس اور اٹلی نے بھی الگ الگ بیانات میں ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا ہے۔

افریقہ کے روس کے خصوصی مندوب میخائیل مارگیلوف نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ اس مرتبہ لیبیا کے حکام سیف السلام کے لیے ویسے ’انصاف‘ پر نہیں اترے، جس کا انتخاب معمر قذافی کے لیے کیا گیا تھا۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس