1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’سیف الاسلام خود کو دی ہیگ کی عدالت میں پیش کرنے کو تیار‘

لیبیا میں برسر اقتدار قومی عبوری کونسل نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق حکمراں معمر قذافی کا زندہ بچ جانے والا مفرور بیٹا سیف الاسلام خود کو دی ہیگ کی بین الاقوامی فوجداری عدالت کے حوالے کرنے کا سوچ رہا ہے۔

default

سیف الاسلام کو کافی عرصے تک قذافی کے جانشین کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ اُسے طویل عرصے تک انگلینڈ میں تعلیم حاصل کرنے والے ایک نرم گو شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا مگر جب انہوں نے قذافی کے مسلح مخالفین کو ’چوہے‘ قرار دے کر انہیں نشانہ بنانے کے نعرے کی حمایت کی تو ان کی شخصیت کا نیا پہلو لوگوں کے سامنے آیا۔ آبائی شہر سِرت کا کنٹرول کھونے کے بعد ان کے والد معمر قذافی مخالفین کے ہاتھوں مارے گئے تاہم سیف الاسلام زندہ بچ جانے میں کامیاب رہے۔

ان کے متعلق خیال ہے کہ وہ اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ ریگستانی علاقے میں فرار کی حالت میں ہیں۔ عبوری کونسل کے مطابق 39 سالہ سیف الاسلام کے ہمراہ ان کے قریبی عزیز اور لیبیا کے سابق انٹیلی جنس چیف عبد اللہ السینوسی بھی ہیں۔ اس سے قبل کی اطلاعات کے مطابق السینوسی نائیجر میں رہتے ہوئے سیف الاسلام کو مدد فراہم کر رہے ہیں۔

دی ہیگ کی بین الاقوامی فوجداری عدالت معمر قذافی، سیف الاسلام اور عبد اللہ تینوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرچکی ہے۔ ان پر رواں سال فروری سے شروع ہونے والے عوامی احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے اور دیگر انسانیت سوز مظالم کے الزامات ہیں۔ 69 سالہ قذافی عدالت کا سامنا نہ کرسکے اور مبینہ طور پر عبوری کونسل کے جنگووں کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد قتل کر دیے گئے۔

NO FLASH Protest in Tripoli

لیبیا میں گزشتہ دنوں ملک کی ’آزادی‘ کا جشن منایا گیا تھا

قومی عبوری کونسل کے ایک اعلیٰ کمانڈر عبد المجید کا کہنا ہے کہ سیف الاسلام اور عبد اللہ خود کو عدالت کے حوالے کرنے کی تجاویز پر غور کر رہے ہیں۔ دی ہیگ کے ذرائع نے فی الحال سیف الاسلام کی جانب سے کسی رابطے کی تصدیق نہیں کی۔ این ٹی سی کے کمانڈر نے انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سیف الاسلام ممکنہ طور پر لیییا کے جنوبی ریگستانی علاقے میں ہیں اور کسی ثالث ملک کے ذریعے دی ہیگ کی عدالت سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سیف الاسلام کی والدہ، ایک بہن اور دو بھائیوں کو الجیریا کی حکومت پناہ فراہم کرچکی ہے جبکہ ان کے دو بھائی نائیجر میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ کمانڈر عبد المجید کے بقول سیف الاسلام اور عبد اللہ خود کو محفوظ تصور نہیں کرتے اسی لیے خود کو دی ہیگ کی عدالت میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول اگرچہ قذافی کے خاندان کے پاس مال و دولت کی کمی نہیں تاہم فی الحال تمام مالیاتی وسائل سیف الاسلام سے دور ہیں اور وہ ان کا استعمال بھی نہیں کر پا رہے۔ قذافی کی ایک حامی ویب سائٹ Zangetna.com پر جاری ایک بیان میں سیف الاسلام کو مجاہد اور رہنما کے طور پر پیش کیا ہے اور ان سے ’مزاحمت‘ جاری رکھنے کا کہا گیا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM