1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سیرالیون میں سیلاب ، دو سو زائد ہلاک

براعظم افریقہ کے ملک سیرالیون کو شدید سیلاب کا سامنا ہے۔ اس مغربی افریقی ملک کے دارالحکومت میں مٹی کے تودوں اور سیلابی پانی کے ریلوں کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو سو سے بڑھ گئی ہے۔

سیرالیون میں شدید بارشوں کے بعد مٹی کے تودوں کے گرنے سے پیدا ہونے والے کیچڑ کی زد میں آ کرہلاک ہونے والے افراد کی تعداد دو سو سے تجاوز کر گئی ہے۔ ان ہلاکتوں کی تصدیق سیرا لیون کے مقامی ریڈکراس دفتر نے کی ہے۔

حکام کے مطابق دو ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ ریڈ کراس نے 179 سے زائد لاشیں کیچڑ اور سیلابی پانی سے تلاش کرنے کا بھی بتایا ہے۔ پیر چودہ اگست کو سیلاب اُس وقت آیا جب لوگ گھروں میں سوئے ہوئے تھے۔ کئی علاقوں میں ایسی صورت حال ہے کہ لوگوں کے پاس رات بسر کرنے کی جگہ بھی نہیں بچی ہے۔

موسلا دھار بارش سے شہر میں پھیلنے والا گندہ سیلابی پانی سیرالیون کے دارالحکومت فری ٹاؤن کے مرکزی علاج گاہ کناٹ ہسپتال کے مردہ خانے میں بھی بھر گیا ہے۔ اس باعث کئی لاشیں پانی اور کیچڑ کے ساتھ بہہ گئی ہیں۔ ہسپتال کے اہلکار نے حکومت سے مزید ایمبیولینسوں کی اپیل کی ہے۔ مختلف مقامات پر سیلابی پانی میں انسانی لاشیں تیرتی اور ساکت حالت میں دکھائی دے رہی ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں عام لوگ اپنے لاپتہ ہو جانے والے افراد کی لاشیں ڈھونڈنے میں مصروف ہیں۔ کئی لوگ لاشوں کو مردہ خانے پہنچانے کے لیے چاول کی خالی بوریوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ کناٹ ہسپتال کے مطابق شہر سے لوگ مردہ خانے لاشیں جمع کرانے کے لیے مسلسل پہنچ رہے ہیں۔

یہ امر اہم ہے کہ بارہ لاکھ سے زائد آبادی والے شہر فری ٹاؤن کو ہر سال شدید بارشوں کے بعد سیلابوں کا سامنا ہوتا ہے اور حکومت اس معاملے پر پوری طرح توجہ مرکوز کرنے سے قاصر رہی ہے۔ اس شہر کو سن 2014 میں ایبولا بخار کی وبا کا بھی سامنا رہ چکا ہے۔

DW.COM