1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

 سید صلاح الدین عالمی دہشت گرد قرار ، ’بھارت کی بڑی کامیابی‘

کشمیری علیحدگی پسند تنظیم حزب المجاہدین کے سربراہ صلاح الدین کو امریکا کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے جانے کو بھارت کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ بھارت میں اس حوالے سے کیا رد عمل سامنے آیا ہے، یہ جانیے اس رپورٹ میں۔

بھارت نے امریکی حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک موثر اقدم قرار دیا۔ بھارت کے مرکزی داخلہ سکریٹری راجیو مہرشی نے مقامی بھارتی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ،’’صلاح الدین ایک ’بزدل ‘ انسان ہے جو پاکستان’بھاگ گیا‘ ہے۔ وہ ایک دہشت گرد ہے اور اب اسے عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔ امریکا کے اس اعلان سے اس کی سرگرمیوں اور اسے مالی مدد دینے والوں کے خلاف کارروائی کرنے میں مدد ملے گی۔‘‘

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان گوپال باگلے کا کہنا تھا ،’’ امریکا کے فیصلے سے بھارت کے اس دیرینہ موقف کی تصدیق ہوتی ہے کہ کشمیر میں بدامنی جاری رکھنے کے لئے سرحد پار سے دہشت گردی ہورہی ہے اوروہ (صلاح الدین) جس تنظیم کی قیادت کررہا ہے وہ پاک مقبوضہ کشمیر سے بھارت کے خلاف سرحد پار سے دہشت گردی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سے یہ امر بھی واضح ہے کہ امریکا اور بھارت دونوں کو دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے۔‘‘

بھارتی اسٹریٹیجک اور دفاعی اُمور کے ماہرین امریکا کے فیصلے کو بھارت کے لئے ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ اسٹریٹیجک اُمور کے ماہر شوسانت سرین کا اس حوالے سے کہنا تھا،’’ صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرا ر دینا ایک بہت بڑی بات ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ آیا یہ کشمیر کے حوالے سے امریکا کی پالیسی میں کسی تبدیلی کا اشارہ ہے، یا یہ اعلان صرف دہشت گردی کے حوالے سے ہے۔ لیکن اگر یہ فیصلہ صرف دہشت گردی کے حوالے سے ہے تب بھی وزیر اعظم نریندر مودی کی بڑی کامیابی ہے۔‘‘

Syed Salahuddin Kaschmir Flash-Galerie (picture-alliance/ dpa)

بھارت دہشت گردی کے کئی واقعات کے لئے سید صلاح الدین کو ذمہ دار مانتا ہے

دفاعی اُمور کے ماہر  پی کے سہگل کا کہنا تھا ،’’ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ قدم پاکستان کے لئے دھچکا ہے۔ دہشت گردوں پر نکیل کسنے کے لئے اب پاکستان کو کارروائی کرنی ہوگی۔‘‘

بھارتی ذرائع کے مطابق سید صلاح الدین کے حوالے سے امریکی فیصلہ مبینہ طور پر بھارتی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ اور نئی امریکی انتظامیہ بالخُصوص بھارت کے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال اور ان کے امریکی ہم منصب لفٹیننٹ جنرل ایچ آر میک ماسٹر کے درمیان گزشتہ چھ ماہ کی مسلسل بات چیت کا نتیجہ ہے۔

بھارت دہشت گردی کے کئی واقعات کے لئے سید صلاح الدین کو ذمہ دار مانتا ہے۔ بھارت نے مبینہ طور پر مئی 2011 میں پاکستان کو جن 50 ’مطلوب ترین‘ افراد کی فہرست سونپی تھی اُس میں سید صلاح الدین کا نام شامل ہے۔

خیال رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے ایگزیکیوٹیو آرڈر میں کہا ہے ،’’یہ اقدام امریکی عوام اور بین الاقوامی برادری پر واضح کرتا ہے کہ محمد یوسف شاہ المعروف سید صلاح الدین دہشت گردانہ حرکات میں ملوث رہے ہیں یا اُن سے دہشت گردی کا خدشہ ہے یا خطرہ لاحق رہا ہے ‘‘۔ اس میں مزید کہا گیا ہے ،’’یہ اقدام ایسے غیر ملکی دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اٹھایا جاتا ہے، جو دہشت گردانہ حرکات میں ملوث رہا ہو، یا جن کے عزائم و عمل کو امریکی شہریوں، مفادات یا قومی سلامتی، امریکا کی بیرونی پالیسی یا معیشت کے لئے خطرے کا باعث گردانا جاتا ہو‘‘۔

تاہم بعض بھارتی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ گو یہ فیصلہ پاکستان کے لئے بڑا دھچکا ضرور ہے لیکن بھارت کو اس پر زیادہ خوش نہیں ہونا چاہئے۔ اس اعلان سے فائدہ اسی صورت میں ہوگا جب اس کے مطابق عملی قدم بھی اٹھایا جائے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات