1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سیاہ فام امریکیوں کا حج کا انوکھا تجربہ

شاہدہ شریف ایک افریقی نژاد امریکی ہیں، جنہوں نے لاکھوں افراد کے ہمراہ رواں برس حج کیا، جسے وہ ’خدا سے اپنے رابطے کی مضبوطی کا اعادہ‘ قرار دیتی ہیں۔ اسے وہ ایک طرف سیاہ فاموں اور دوسری جانب انسانیت سے تعلق گردانتی ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے مکہ میں بات چیت کے دوران شریف نے کہا، ’’جب ایک گھرانہ، ذات اور ضروریات سے اہم ہو جائے، تو رشتے بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہمارا اعتقاد کیا ہے، ہماری نسل کیا ہے، ہماری شہریت کیا ہے، مجھے آپ میں اپنے جیسا کچھ نہ کچھ پھر بھی مل جائے گا۔‘‘

سیاہ فام امریکی مسلمانوں کے لیے اس بار کا حج اس لیے بھی اہم تھا کہ وہ سیاہ فاموں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے میلکم ایکس کی 50 ویں برسی منا رہے ہیں۔ میلکم ایکس بعد میں مسلمان ہو گئے تھے اور انہوں نے اپنے لیے مالک الشباز کا نام چنا تھا۔ ایکس نے بھی حج کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس تجربے کو دیکھ کر اس لیے بھی راحت ملی کہ یہاں ہر رنگ، ہر نسل اور ہر شہریت کے افراد موجود تھے، تاہم ان کے درمیان ایک گہرا تعلق تھا۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہر رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے عازمین کے درمیان ایک روحانی تعلق تھا، ایک بھائی چارہ تھا۔ امریکا میں میرے تجربے نے مجھے بتا رکھا تھا کہ سفید فام اور سیاہ فام افراد کے درمیان یقین اور اعتبار کبھی قائم نہیں ہو سکتا۔‘‘

Malcolm X 1964

میلکم ایکس سیاہ فاموں کے حقوق کی تحریک کے ایک اہم رہنما تھے

اس بار کا حج ہفتہ چھبیس ستمبر کے روز اختتام پزیر ہو گیا اور اس کا اختتامیہ ایک ایسے موقع پر ہوا، جب امریکا میں گزشتہ کئی دہائیوں کی شدید بحث جاری ہے، جس کا موضوع ہے نسل اور نسلی تعصب، ایک ایسے وقت پر کہ جب متعدد سفید فام پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں سیاہ فام باشندوں کی ہلاکت کے واقعات کیمروں نے محفوظ کیے اور عوامی سطح پر دیکھے گئے۔

ان واقعات کے بعد امریکا میں سیاہ فاموں کی جانب سے بڑے پیمانے پر مظاہرے بھی کئے گئے، جن میں سے چند مرتبہ حالات تشدد کا رنگ بھی اختیار کر گئے۔ سیاہ فاموں کا الزام ہے کہ سفید فام پولیس اہلکار رنگ کی بنیاد پر شہریوں کے درمیان فرق روا رکھتے ہیں۔