1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سیاچن: برف کے تودے سے چھ دن بعد زندہ نکلنے والے بھارتی فوجی کی حالت نازک

ایک بھارتی فوجی جسے چھ دن قبل سیاچن کے محاذ پربرفانی تودے میں دب جانے کے سبب مردہ تصور کیا جارہا تھا، اُسے زندہ نکال لیا گیا ہے۔

بھارتی فوج کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ لانس نائیک ہنامن تھاپا چھ ہزار میٹر کی بلندی پر تقریباً آٹھ میٹر برف کے نیچے اپنے نو ساتھیوں سمیت دب گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق لانس نائیک ہنامن کے تمام ساتھی ہلاک ہو گئے ہیں اور اُن کی اپنی حالت بھی نازک بتائی جا رہی ہے۔ انہیں پیر کو ایک ریسکیو آپریشن کے ذریع برفانی تودوں سے نکالا گیا تھا۔

بھارتی لیفٹینٹ جنرل ڈی ایس ہودا نے جموں میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تین فروری کو برفانی تودے سیاچن گلیشیئر کے شمالی علاقے میں واقع ایک بھارتی فوجی چوکی پرگرے تھے۔ اس حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کی گئی تھیں لیکن تین دن قبل فوج نے کسی بھی جوان کے زندہ ہونے کی امید چھوڑ دی تھی۔

1948ء سے بھارت اور پاکستان نے متنازعہ کشمیر میں 7000 میٹر کی بلندی پر واقع سیاچن گلیشیئر پر اپنی اپنی فوجیں تعینات کر رکھی ہیں۔ فوج نے 20 تا 40 ڈگری منفی درجہ حرارت میں ریسکیو آپریشن جاری رکھنے کے بعد برفانی تودوں تلے دبے کسی فوجی کے زندہ باہر نکلنے سے نا اُمید ہو کر آپریشن ختم کر دیا تھا۔

ARCHIV Siachen Gletscher Pakistan 130 Soldaten von Lawine verschüttet pakistanischer Armeehelikopter

سیاچن گلیشیئر پر تعینات پاکستان اور بھارت کے فوجیوں کی ہلاکت کی تعداد کافی زیادہ ہے

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک ٹوئیٹ پیغام میں اس واقعے پر افسوس اور ہلاک ہونے والے فوجیوں کے لواحقین کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

برفانی تودوں سے زندہ نکال لیے جانے والے بھارتی فوجی کی حالت نازک ہے اور اُسے نئی دہلی کے ایک فوجی ہسپتال منتقل کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ لیفٹینٹ جنرل ڈی ایس ہودا نے ایک بیان میں کہا، ’’ہم دعا گو ہیں کہ معجزات کا سلسلہ جاری رہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ اب تک پانچ لاشیں برآمد کی جا چُکی ہیں اور چار کی شناخت ہو گئی ہے۔

بھارت اور پاکستان دونوں کی افواج اب تک سیاچن گلیشیئر کے محاذ پر اپنے لاتعداد فوجیوں کا نقصان اُٹھا چُکے ہیں۔ کشمیر دو حصوں میں منقسم ہے ایک بھارت کے اور دوسرے پاکستان کے زیر انتظام ہے۔

DW.COM