1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سیاسی پناہ کے متلاشیوں کے حراستی مرکز میں تشدد پھوٹ پڑا

آسٹریلیا کی طرف سے مہاجرین کے حراستی مرکز کرسمس آئی لینڈ پر ایک شخص کی ہلاکت کے بعد جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حفاظتی باڑیں توڑ دی گئی ہیں، مختلف جگہوں پر آگ لگی ہوئی ہے اور اسٹاف وہاں سے فرار ہو گیا ہے۔

آسٹریلیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ’بڑی گڑ بڑ‘ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حالات کی بحالی کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ تاہم آسٹریلیا کی گرین پارٹی کی سربراہ سارہ ہینسن ینگ کا کہنا ہے کہ اس سینٹر کی صورت حال انتہائی کشیدہ ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت وہاں کی درست صورتحال واضح کرے اور اپنے ردعمل کے دوران حد سے تجاوز نہ کرے: ’’میں نے ان لوگوں سے بات کی ہے جو وہاں پر زیر حراست ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ بہت زیادہ بد امنی ہے اور تمام مرکز میں آگ پھیلی ہوئی ہے۔‘‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کرسمس آئی لینڈ پر موجود مہاجرین کے اس حراستی مرکز میں موجود افراد نے عمارتوں کو آگ لگا دی۔ اس بات کی تصدیق اس سینٹر میں موجود لوگوں نے کی جبکہ حکام کی طرف سے کہا گیا کہ صورتحال قابو سے باہر ہے۔

بحر ہند میں موجود ایک جزیرے پر واقع اس جزیرے پر یہ شورش سیاسی پناہ کے متلاشی ایک شخص کی موت کے بعد شروع ہوئی۔ اس کی ہلاکت کی وجوہات ابھی تک واضح نہیں ہے۔ اے ایف پی کے مطابق اس مرکز میں موجود لوگ خود سے روا رکھے جانے والے سلوک کے خلاف شکایات کرتے رہے ہیں۔ اس مرکز میں 203 مردوں کو رکھا گیا ہے جن میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے سیاسی پناہ کے لیے درخواست دے رکھی ہے اور ایسے غیر آسٹریلوی شہری بھی شامل ہیں جنہیں ان کے مجرمانہ ریکارڈ کی وجہ سے ملک بدر کیا جانا ہے۔

اس مرکز میں 203 مردوں کو رکھا گیا ہے

اس مرکز میں 203 مردوں کو رکھا گیا ہے

آسٹریلیا کے امیگریشن منسٹر پیٹر ڈیوٹن Peter Dutton نے اسکائی نیوز کو بتایا، ’’اس سینٹر میں ابھی تک نظم وضبط یا کنٹرول حاصل نہیں کیا جا سکا۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی شخص کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے اور نہ ہی اس جزیرے پر لگی حفاظتی باڑ کو کوئی نقصان پہنچایا گیا یا کسی کے وہاں سے فرار کی اطلاع ہے۔

آسٹریلوی پالیسی کے مطابق سیاسی پناہ کی تلاش میں آسٹریلیا کا رُخ کرنے والے افراد کو ملک کے اندر لانے کی بجائے انہیں ایک دور دراز جزیرے پر رکھا جاتا ہے۔