1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سیاسی پناہ کے متلاشیوں کا سڈنی میں احتجاج

پاکستان، افغانستان اور ایران سے آئے ہوئے کوئی 100 کے قریب افراد اپنے مطالبات منوانے کے لیے پناہ گزینوں کے لیے بنائے گئے ایک بڑے مرکزکی چھت پر چڑھ گئے تھے۔

default

بدھ کے روز سڈنی کی تارکین وطن کے امور کے ادارے کی طرف سے مطالبات مسترد کیے جانے کے بعد پناہ گزینوں نے پوری عمارت کو آگ لگا دی۔ پناہ گزینوں کے لیے بنائی گئی اس قیام گاہ میں موجود فرنیچر اور کلینک کو نذر آتش کر دیا۔

سڈنی میں امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے ایک ترجمان بتاتے ہیں، ’’یہ ایک مشکل رات تھی۔ نیو ساؤتھ ویلز کی پولیس، آگ بجھانے والے عملے اور ایمبولینسوں کے لیے صورتحال کو کنٹرول کرنا نہایت مشکل تھا۔ ہر طرف آگ لگی ہوئی تھی اور بہت سی چیزیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ تاہم تمام لوگ محفوظ رہے۔ یہ کوئی معجزے سے کم نہیں کہ کوئی بھی فرد زخمی نہیں ہوا۔‘‘

Australien Flüchtlingsdrama

پناہ گزینوں کے لیے بنائے گئے اس سینٹر میں کوئی 400 افراد سیاسی پناہ کے لئے دی گئی درخواستوں کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں

سڈنی میں کام کرنے والی امدادی تنظیم سوشل جسٹس نیٹ ورک سے وابستہ جمال داؤد اس واقعے کے عینی شاہد ہیں۔ وہ بتاتے ہیں، ’’سب سے پہلے پناہ گزینوں کا ایک گروپ صبح ہوتے ہی چھت پر چڑھ گیا۔ یہ لوگ امیگریشن حکام سے کیمپ کی صورتحال اور سیاسی پناہ سے متعلق مذاکرات کرنا چاہتے تھے لیکن کوئی بھی ان کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار نہیں تھا۔ اسی دوران کشیدگی میں اضافہ ہو گیا۔ پناہ گزینوں نے جلتی ہوئی چیزوں کو پولیس اہلکاروں پر پھینکنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد باورچی خانے، کمپیوٹر روم اور پھر پوری عمارت کو آگ لگا دی گئی۔ احتجاج میں شامل نہ ہونے والے پناہ گزین خوفزدہ تھے۔ ہر طرف دھواں ہی دھواں تھا اور ان کی سانس گُھٹ رہی تھی۔‘‘

پناہ گزینوں کے لیے بنائے گئے اس سینٹر میں کوئی 400 افراد سیاسی پناہ کے لئے دی گئی درخواستوں کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔ آسٹریلوی قانون کے مطابق جب تک درخواستوں کا فیصلہ نہیں ہو جاتا،تب تک پناہ گزین وہ قیام گاہ نہیں چھوڑ سکتے، جہاں وہ رہتے ہیں۔ آسٹریلیا میں ایک ماہ پہلے بھی پناہ گزینوں نے مظاہرے کیے تھے اور اس وقت بھی ایک عمارت کو آگ لگا دی گئی تھی۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM