1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

سیاسی پناہ کے سفر سے بلندیوں تک پہنچنے کی داستان

افريقی ملک گيمبيا سے تعلق رکھنے والے پناہ گزين بيکری جٹا نے جرمن فرسٹ ڈويژن ليگ ميں ہيمبرگ فٹ بال کلب کے ساتھ کھيلنے کے ليے معاہدے پر دستخط کر ديے ہيں۔ مقامی ميڈيا نے اسے ايک ناقابل فراموش کہانی سے تعبير کيا ہے۔

بيکری جٹا نے ہيمبرگ فٹ بال کلب (HSV) کے ساتھ دس ہزار يورو ماہانہ کے عوض کھيلنے کے ليے معاہدے پر دستخط منگل چودہ جون کے روز کيے۔ جٹا نے گزشتہ برس ہی شمالی افريقہ سے بحيرہ روم کے خطرناک راستے سے اٹلی تک کا سفر کيا تھا۔ اس نے رواں سال جنوری ميں ہيمبرگ کے کھلاڑيوں کے ساتھ ٹريننگ کرتے ہوئے کئی لوگوں کے دل جيت ليے تھے تاہم فٹ بال کی عالمی تنظيم فيفا کے قوانين کے مطابق چونکہ اس وقت اس کی عمر اٹھارہ برس نہ تھی، اسے باقاعدہ معاہدہ کرنے کی اجازت نہيں تھی۔ چھ جون کے روز بيکری جٹا نے اپنی اٹھارويں سالگرہ منائی، جس کے کچھ ہی روز بعد اس اسٹرائيکر نے جرمن فرسٹ ڈويژن ليگ کے ايک کلب کے ساتھ کھيلنے کا معاہدہ کر ليا۔

ہيمبرگ کے (HSV) کلب کے کوچ برونو لباڈيا نے جرمن اخبار ’بلڈ‘ سے گفتگو کے دوران کہا کہ بيکری قدرتی طور پر بہت ہی با صلاحيت کھلاڑی ہے۔ ان کے بقول ان کے کلب ميں صرف اور صرف کارکردگی پر توجہ دی جاتی ہے اور اسی بنياد پر کھلاڑيوں کو مواقع فراہم کيے جاتے ہيں، مہاجر ہونے کی حيثيت سے جٹا کو کوئی فائدہ يا نقصان نہيں ہو گا۔

جٹا نے گزشتہ برس شمالی افريقہ سے يورپ کی طرف ہجرت کی تھی

جٹا نے گزشتہ برس شمالی افريقہ سے يورپ کی طرف ہجرت کی تھی

بيکری جٹا کا کہنا ہے کہ وہ تين سال کا کانٹريکٹ ملنے پر بے انتہا خوش ہے۔ ’’ميں بہت زيادہ خوش ہوں۔ يہ ميرے ليے ايک بہت اچھا احساس ہے اور ايک بہت بڑا چيلنج بھی کہ ميں ايچ ايس وی جيسے بڑے کلب کے ساتھ کھيل سکوں گا۔‘‘ گيمبيا سے تعلق رکھنے والا يہ کھلاڑی گزشتہ برس اگست ميں جرمنی آنے کے بعد سے شمالی شہر بريمن کی يوتھ اکيڈمی ميں تعليم اور فٹ بال کی تربيت حاصل کرتا رہا ہے۔

اپنے نئے کلب کی ويب سائٹ پر چھپنے والے ايک انٹرويو ميں بيکری جٹا اپنے آبائی ملک سے جرمنی تک کے سفر پر روشنی ڈالتا ہے۔ وہ بتاتا ہے، ’’ميں بن ماں باپ کے بڑا ہوا، افريقہ ميں حالات ميرے ليے بہت ہی خراب تھے۔ ميں جانتا تھا کہ مجھے پناہ کے حصول اور بہتر مستقبل کے ليے يہ خطرناک سفر طے کرنا ہی ہو گا۔‘‘ جٹا کے بقول اس دوران اس نے بہت سے خطرات مول ليے ليکن وہ صرف اپنے آنے والے مستقبل کی طرف ديکھ رہا تھا۔