1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

سیاسی پناہ کی درخواستیں: جرمن عدالتوں کے جج کیا کہتے ہیں؟

جرمنی میں تارکین وطن اپنی پناہ کی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد ان کے خلاف انتظامی عدالتوں میں اپیل کرتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت انتظامی عدالتوں کو قریب ڈھائی لاکھ اپیلیں نمٹانا ہیں۔

جرمنی میں انتظامی عدالتوں کے ججوں کی وفاقی تنظیم کے سربراہ روبرٹ زیگ میولر نے انتظامی عدالتوں میں پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی جمع کرائی گئی اپیلوں کی بڑی تعداد کے باعث پیدا شدہ صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

جرمنی میں  کسے پناہ ملے گی اور کسے جانا ہو گا؟

جرمن فوجی کی بطور مہاجر پناہ کی درخواست کیسے منظور ہوئی؟

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق زیگ میولر نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’جرمن انتظامی عدالتوں میں صورت حال انتہائی ڈرامائی ہے اور ہم اس وقت اپنی کارکردگی کی حدوں کو چھو رہے ہیں۔‘‘

جرمنی کا وفاقی ادارہ برائے مہاجرت و تارکین وطن (بی اے ایم ایف) اور یورپی دفتر شماریات (یوروسٹَیٹ) کے اعداد و شمار کے مطابق جرمنی میں ڈھائی لاکھ سے زائد تارکین وطن نے اپنی پناہ کی درخواستیں ابتدائی فیصلوں میں مسترد کر دیے جانے کے بعد ان فیصلوں کے خلاف ملکی انتظامی عدالتوں میں اپیلیں جمع کرا رکھی ہیں۔

اتنی بڑی تعداد میں اپیلوں کی سماعت کرنے اور ان پر فیصلے سنانے کے بارے میں انتظامی عدالتوں کے ججوں کی وفاقی تنظیم کے سربراہ کا کہنا ہے، ’’عدالتوں کی صورت حال اس وقت یوں ہے جیسے ایک کار چل تو رہی ہے مگر انجن کی سوئی مسلسل سرخ لکیر پر ہے، کچھ دیر تک تو یوں گاڑی چلتی رہی گی، لیکن مسلسل یہی صورت رہی تو انجن کسی وقت بھی کام کرنا چھوڑ دے گا۔‘‘

یوروسٹَیٹ کے مطابق جرمنی میں مہاجرین کی اپیلوں کی مجموعی تعداد میں کافی اضافہ متوقع ہے۔ زیگ میولر کے مطابق بھی سن 2017 میں تارکین وطن کی سیاسی پناہ کی درخواستوں پر اپیلوں کی تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں دوگنا ہو جائے گی۔

جرمن عدالتوں میں مہاجرین کی اپیلوں سے نمٹنے کے لیے ججوں کی تعداد اور عدالتی عملے کی کمی کے علاوہ سماعت کے لیے عدالتوں اور کمپیوٹروں کی تعداد بھی مطلوبہ ضرورت سے کہیں کم ہے۔ ایک مقامی اخبار کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں زیگ میولر نے کہا، ’’عدالتیں اپنی گنجائش بڑھانے کے لیے تیار ہیں لیکن ضروری عدالتی عملہ بھرتی کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔‘‘

وفاقی جرمن وزارت داخلہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ انتظامی عدالتوں کی گنجائش میں اضافہ کرنا جرمن صوبوں کی ذمہ داری ہے، نہ کہ وفاق کی۔

اس سال اب تک مزید کتنے پاکستانی جرمنی پہنچے؟

پاکستانی تارکین وطن کی واپسی، یورپی یونین کی مشترکہ کارروائی

ویڈیو دیکھیے 02:09

برطانیہ میں پناہ کا متلاشی ایک پاکستانی خاندان

DW.COM

Audios and videos on the topic