1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ، نون لیگ کی نیّا کس پار لگے گی؟

پاکستانی دارالحُکومت اسلام آباد، نواز شریف کی بطور وزیر اعظم نااہلی کے بعد آج مختلف سیاسی و عدالتی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا ۔ بعض تجزیہ کاروں کی رائے میں آنے والے دن حکمران جماعت مسلم لیگ نون کے لیے زیادہ اچھے نہیں۔

Pakistan Islamabad - Shahid Khaqan Abbasi (Getty Images/AFP/A. Qureshi)

’شاہد خاقان عباسی کے خلاف ایل این جی گیس کے معاہدے کے حوالے سے ایک انکوائر ی پہلے ہی نیب کے پاس ہے ‘

نامزد وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے آج قومی اسمبلی چیمبر میں اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ۔ پی ٹی آئی کی طرف سے شیخ رشید احمد اور ایم کیو ایم کی طرف سے کشور زہرہ نے بھی کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے۔ مسلم لیگ نون کے ایک وفد نے پی پی پی کے رہنما خورشید شاہ سے ملاقات میں شاہد خاقان کے لئے حمایت کی درخواست کی۔

 دوسری طرف سپریم کورٹ میں عمران خان کی نا اہلی کے لئے جمع کرائی گئی درخواست پر سماعت بھی آج جاری رہی۔ سماعت کے بعد پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا کہ اُس نے تمام متعلقہ کاغذات عدالتِ عالیہ میں جمع کرا دیے ہیں جب کہ مسلم لیگ نون کا دعویٰ تھا کہ پی ٹی آئی ایسا کرنے میں نا کام رہی۔

 اُدھر اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی بر طرفی کے خلاف ایک پٹیشن بھی جمع کرا دی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ان کی بر طرفی کے حکم نامے میں قانونی تقاضوں کو مدِ نظر نہیں رکھا گیا۔

Pakistan Islamabad Imran Khan (picture-alliance/dpa/T. Mughal)

سپریم کورٹ میں عمران خان کی نا اہلی کے لئے جمع کرائی گئی درخواست پر سماعت بھی آج جاری رہی

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان تمام سرگرمیوں سے قطع نظر نیب کے آج ہونے والے اجلاس میں نواز شریف اور اُن کے خاندان کے خلاف نیب ریفرنس دائر کرنے کے حوالے سے اہم فیصلے ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ شریف خاندان کے خلاف ریفرنس ڈی جی نیب عرفان منگی دائر کریں گے، جو جے آئی ٹی کے رکن بھی تھے۔

اسلام آباد کے سیاسی و سماجی حلقوں میں گردش کرتی یہ خبریں صرف شریف خاندان ہی کے لئے پریشان کن نہیں ہیں بلکہ ذرائع ابلاغ کے ایک حصے نے بھی ایسا دعویٰ کیا ہے کہ نامزد وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف نیب میں انکوائری چل رہی ہے، جس کی وجہ سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نامزد وزیرِ اعظم کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑیگا۔

علاوہ ازیں شیخ رشید نے بھی آج اعلان کیا کہ وہ شاہد خاقان کے خلاف نیب اور سپریم کورٹ بھی جائیں گے۔ شیخ رشید نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے سامنے شاہد خاقان عباسی کے حوالے سے ایل این جی گیس معاہدے کی بات کی اور ان کی نامزدگی کے خلاف اعتراضات بھی اٹھائے، جسے ایاز صادق نے مسترد کر دیا۔

معروف سیاسی مبصر مظہر عباس نے ان مقدمات کے حوالے سے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ اور اب ان کے سیاسی مخالفین نے بھی یہ اعلان کیا ہے کہ وہ ان کے خلاف  عدالت جائیں گے، جس کے باعث عباسی صاحب کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور مقدمات کی تلوار ہر وقت ان کے سر پر لٹکتی رہے گی۔ ‘‘

ایک سوال کے جواب میں مظہر عباس نے کہا، ’’مسلم لیگ کے لئے آنے والے دنوں میں مسائل ہی مسائل ہیں۔ شاہد خاقان کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک کیس ہے۔ شہباز شریف کے خلاف ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ ہے جب کہ نواز شریف کے خلاف نیب کے مقدمات ہوں گے اور ممکنہ طو ر پر اگر انہوں نے عوامی رابطے بڑھائے تو سابق وزیراعظم کو گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔ ان کے قریبی ساتھیوں اور رشتے داروں کو بھی مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا۔ تو آنے والے دن نون لیگ کے لئے بہتر نہیں ہیں۔‘‘

تاہم دفاعی تجزیہ کار ریٹائرڈ جنرل امجد شعیب کے خیال میں شاہد خاقان کو اتنی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اس حوالے سے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا، ’’ صرف الزام کی بنیاد پر اُن کو نکالا تو نہیں جا سکتا۔ میرے خیال میں شاہد خاقان عباسی کے خلاف کوئی ٹھوس کرپشن کے ثبوت نہیں ہیں۔ اگر نیب اُن کے خلاف کوئی انکوائری کرتی بھی ہے تو وہ وزیرِ اعظم رہتے ہوئے بھی انکوائر ی کا سامنا کر سکتے ہیں۔‘‘

DW.COM