1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سیاست کی پچ پر عمران خان کی سوئنگ ابھی تک ناکام

عمران خان 20 سے زیادہ عرصے تک کرکٹ کی دنیا پر ایک متاثر کن آل راؤنڈر کی طرح چھائے رہے۔ ان کی خود اعتمادی گراؤنڈ میں مخالف ٹیم کو پریشان کر دیتی تھی۔ عمران خان ایک کامیاب کرکٹر تھے لیکن سیاست میں ابھی تک وہ ناکام ہیں۔

default

اگلے انتخابات میں تحریک انصاف ہی کامیاب ہو گی، عمران خان

عمران خان کرکٹ کے کھیل میں اپنے جارحانہ رویے، صحیح فیصلوں اور خود اعتمادی کی وجہ سے بہت کامیاب رہے ہیں تاہم سیاست کی پچ پر وہ ابھی تک اپنی کپتانی کے جوہر نہیں دکھا سکے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے تمام مسائل کا حل انہی کے پاس ہے۔ اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اگلے انتخابات میں تحریک انصاف ہی کامیاب ہو گی: ’’میں اس بات پر کسی سے بھی شرط لگانے کو تیار ہوں۔ میں نے پانچ ورلڈ کپ کھیلے ہیں اور صرف 1992ء کے عالمی کپ کے موقع پر میں نے کھلاڑیوں سے کہا تھا کہ ہم یہ کپ جیتیں گے اور ہم ورلڈ چیمپئن بنے۔‘‘

عمران خان نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں ملک کو ہر شعبے میں بحران کا سامنا ہے۔ ان کے بقول پاکستانی عوام نا امید ہو چکے ہیں اور اس صورتحال کی وجہ سے 2013ء کے انتخابات میں ان کی جماعت ہی کامیاب ہو گی۔

Pakistan Proteste

شمالی علاقہ جات میں طالبان کے خلاف فوجی آپریشن بند کیا جائے، عمران خان

پاکستان تحریک انصاف ’پی ٹی آئی‘ کے پاس اس وقت پارلیمان میں کوئی نشست نہیں ہے۔ عمران خان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ نہ تو ’پی ٹی آئی‘ کے پاس ووٹرز ہیں اور نہ ہی الیکشن جیتنے کے لیے کوئی بنیادی ڈھانچہ۔

عمران خان کا موقف ہے کہ شمالی علاقہ جات میں طالبان کے خلاف فوجی آپریشن بند کیا جائے۔ ساتھ ہی وہ امریکہ مخالف جذبات کا بھی برملا اظہار کرتے ہیں۔ غیر ملکی صحافی اور آزاد خیال حلقے عمران خان کی انہی پالیسیوں پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ عمران خان کے بقول پاکستان کا امراء کا طبقہ صرف ڈالر اور امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنے ہی لوگوں کو قتل کروا رہا ہے۔

گزشتے ہفتے ہی ایک امریکی ادارے پیو ریسرچ سینٹر نے عمران خان کو پاکستان کا مقبول ترین سیاست دان قرار دیا تھا۔ اس ریسرچ سینٹرکے مطابق 68 فیصد عوام عمران خان کو پسند کرتے ہیں جبکہ صدر آصف علی زرداری کی مقبولیت صرف 11 فیصد ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس