1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سیاحتی کشتی کی وولگا میں غرقابی، سو سے زائد مسافر لاپتہ

روس کے دریائے وولگا میں سیاحوں سے بھری ایک دو منزلہ کشتی طوفانی موجوں کا شکار ہو کر اُلٹنے کے بعد ڈوب گئی۔ اس میں سوار افراد میں سے کم از کم ایک سو کے زندہ بچنے کے امکانات اب معدوم ہوگئے ہیں۔

default

یہ کشتی 185 سیاحوں کو لے کر روس کے اس مشہور دریا میں سیر کراتے ہوئے تاتارستان کے علاقے کی جانب گامزن تھی۔ روس کا یہ علاقہ دارالحکومت ماسکو سے 800 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔ طوفانی لہروں کے سبب یہ کشتی ساحل سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر قریب 20 میٹر گہرے پانی میں ڈوب گئی۔ حکام کے مطابق سیاحوں سے بھری ایک دوسری کشتی نے حادثے کا شکار ہونے والی اس کشتی کے 77 مسافروں کو بچایا جبکہ مجموعی طور پر 80 مسافر زندہ بچنے میں کامیاب ہوئے۔

ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی وزارت کی ترجمان ایرینا آندریانوفا کے بقول باقی افراد کے زندہ بچ جانے کا امکان بہت کم ہے۔ روسی خبر رساں ادارے نے بچ جانے والے ایک مسافر کے حوالے سے بتایا کہ حادثے سے قبل کشتی پہلے اپنے دائیں جانب جُھکی اور پھر چند ہی منٹوں میں مکمل طور پر الٹ کر پانی میں ڈوب گئی۔ تاتارستان کے دارالحکومت کازان کے ساحل پر زندہ بچ جانے والے افراد اور ڈوب جانے والوں کے لواحقین کی بڑی تعداد موجود تھی، جو اس المناک حادثے کے بعد ایک دوسرے کے گلے لگ کر رو رہے تھے۔

Flash-Galerie Caspian Sea

روس کا دریائے وولگا سیاحوں میں خاصہ مشہور ہے

زندہ بچ جانے والی ایک خاتون نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ کشتی میں بچوں کی بھی بڑی تعداد سوار تھی۔ اس خاتون نے روتے ہوئے کہا کہ اُن میں سے کوئی بھی ڈوبتی کشتی سے نکلنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ زندہ بچ جانے والے ایک دوسرے مسافر نے بتایا کہ ان کی کشتی کے ڈوبنے کے بعد ایک دوسری مسافر بردار کشتی اور ایک مال بردار بحری جہاز بھی وہاں سے گزرے مگر ان کے عملے نے کوئی مدد نہیں کی۔ روسی صدر دیمتری میدویدیف نے اس واقعے کی فوری اور جامع تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

ڈوبنے والی کشتی 1955ء میں سابقہ مشرقی بلاک کی ریاست چیکو سلوواکیہ میں تیار کی گئی تھی۔ حکام کے مطابق ابتدائی اندازوں کے مطابق کشتی کی حالت ٹھیک تھی اور اس میں مسافر بھی گنجائش کے مطابق تھے۔ دریائے وولگا روس کے قلب سے گزرتا ہوا بحیرہء کیسپین میں جا گرتا ہے اور اپنے دلفریب قدرتی نظاروں کے سبب سیاحوں میں بہت مقبول ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM