1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سہ فریقی مذاکرات عمل میں لائے جائیں گے:سلمان بشیر

دو پاکستانی شہریوں کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر پاک امریکہ تعلقات میں تناﺅ کے ساتھ ساتھ اسی مسئلے پر حکمران جماعت پیپلز پارٹی بھی اندرونی اختلافات کا شکار ہو گئی ہے۔

default

امریکہ کی جانب سے اس ماہ واشنگٹن میں ہونے والے پاک ،امریکہ ،افغان سہ فریقی مذاکرات ملتوی کئے جانے پر ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے پاکستانی سکریٹری خارجہ سلمان بشیر کا کہنا ہے کہ بات چیت کے اس التواء کو ریمنڈ ڈیوس کے معاملے سے نہ جوڑا جائے۔ ہفتے کی شب دفتر خارجہ میں ایک پریس بریفنگ کے دوران پاکستانی سکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ پاک امریکہ تعلقات چھ دہائیوں پر محیط ہیں جو کسی ایک شخص کی وجہ سے خراب نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاک امریکہ مذاکرات کے لئے نئی تاریخوں کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

Afghanistans Praesident Hamid Karzai

حامد کرزئی حالیہ میونخ سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر

ادھر سابق سکریٹری خارجہ نجم الدین شیخ کا کہنا ہے کہ امریکہ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر پاکستان پر ایک حد سے زیادہ دباﺅ نہیں ڈال سکتا اوروہ اس بارے میں مذاکرات ملتوی کر کے پاکستان کی قوت برداشت کا امتحان لے رہا ہے۔ نجم الدین شیخ کے مطابق” یہ عارضی مرحلہ ہے دونوں ممالک کے دیگر باہمی مفادات ریمنڈ ڈیوس کے معاملے سے کہیں زیادہ اہم ہیں اور ان کو محفوظ رکھنا زیادہ ضروری ہے۔“

دوسری جانب پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی ہفتے کی شب دفتر خارجہ کا الوداعی دورہ کیا ۔ دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق اس موقع پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ انہیں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہونے کی تصدیق کرنے کا کہا تھا جسے انہوں نے مسترد کر دیا۔ شاہ محمود قریشی کے مطابق اسلام آباد میں امریکی سفیر کیمرون منٹر نے بھی انہیں ایسا کرنے کو کہا تھا جس پر انہوں نے امریکی سفیر سے بھی معذرت کی ۔

Pakistans Aussenminister Shah Mahmood Qureshi

شاہ محمود قریشی غیر معمولی دباؤ کا شکار

ادھر وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے اتوار کے روز اپنے ایک بیان میں شاہ محمود قریشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جنرل مشرف کے وارنٹ گرفتاری کے عدالتی حکم کے بعد شاہ محمود قریشی کا کابینہ میں شامل نہ ہونا معنی خیزہے۔ وزیر اطلاعات کے مطابق شاہ محمود قریشی کو کبھی بھی ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنیٰ دینے کےلئے سمری پر دستخط کرنے کے لئے دباﺅ کاسامنا نہیں تھا۔

سابق وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے بھی شاہ محمود قریشی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ انہیں پارٹی فیصلوں کا احترام کرنا چاہئے۔ اگر من پسند وزارت نہ ملے تو اس پر شور نہیں مچانا چاہئے پیپلز پارٹی ایک قومی جماعت ہے اور اس پر انفرادی فیصلے نہیں مسلط کیے جا سکتے۔

ادھر شاہ محمود قریشی کے آبائی حلقے میں بھی ان کو بطور وزیر خارجہ کابینہ میں شامل نہ کیے جانے پر بڑی تعداد میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ دریں اثناء وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اتوار کے روز ایوان صدر میں صدر آصف زرداری سے ملاقات کی ہے۔ ایوان صدر کے ذرائع کے مطابق دونوں راہنماﺅں نے ملاقات کے دوران وا شنگٹن سہ فریقی مذاکرات کے التواء اور شاہ محمد قریشی کے وفاقی کابینہ میں شامل نہ ہونے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

رپورٹ: شکور رحیم ۔اسلام آباد

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس