1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

سہ جہتی آپٹیکل فائبر سولر سیل کی تیاری

جارجیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی جارجیا ٹیک کے سائنسدانوں نے آپٹیکل فائبر کی مدد سے تھری ڈائمنشنل یا سہ جہتی سولر سیل تیار کر لیا ہے۔

default

موجودہ سولر سیل حجم میں کافی بڑے ہوتے ہیں

اس سیل کی تیاری کے بعد سورج کی روشنی سے برقی توانائی کے حصول کے لئے بڑے بڑے فوٹو وولٹیک پینلز کی ضرورت نہیں رہےگی۔ نئے تیار کردہ یہ سیل تہہ کئے جا سکتے ہیں۔

سائنس کی دنیا میں اس ایجاد کو انقلابی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس طریقے کے تحت مستقبل میں آپٹیکل فائبر پر نَینوسٹرکچر اضافے کا براہ راست استعمال بھی ہو سکے گا اور حساس روشنی پَیما کی فائبر آپٹک پر تہہ بھی چڑھائی جا سکے گی۔کم جگہ گھیرنے والے یہ سیل سورج کی ہر جانب سے حاصل ہونی والی روشنی سے بجلی تیار کر سکیں گے اور اسی لئے اِنہیں اُن جگہوں پر بھی استعمال کیا جا سکے گا، جہاں موجودہ فوٹو الیکٹرک سیلز استعمال نہیں کئے جا سکتے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس طریقے کے تحت آگے چل کر موبائل فوٹو وولٹیک جنریٹرز تیار کئے جا سکیں گے یعنی اس طرح آپٹیکل فائبر کو عمارتوں کی دیواروں میں لگا دیا جائے گا اور ان دیواروں پر پڑنے والی دھوپ خودبخود بجلی میں تبدیل ہوتی چلی جائے گی۔ جارجیا ٹیک اسکول آف میٹیریل سائنس اور انجینیئرنگ کے پروفیسر ژونگ لِن وانگ کے مطابق روشنی کی یہ خاصیت ہے کہ وہ نینو اسٹرکچر کے مالیکیولز سے رغبت رکھتی ہے اور اگر ان مالیکیولز کی تہہ آپٹیکل فائبر پر چڑھا دی جائے تو اس کا لازمی اثر یہ ہو گا کہ ان پر پڑنے والی روشنی برقی توانائی کی تخلیق کا باعث ہوگی۔

Der Vorstandsvorsitzende von der Q-Cells AG, Anton Milner, links, und Finanzvorstand Hartmut Schuening posieren auf dem Parkett der Boerse in Frankfurt am Mittwoch

شمسی توانائی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کے حوالے سے تحقیق تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے

’’آئن سٹائن کے نظریہ ضیا برقی اثر یا فوٹو الیکٹرک ایفیکٹ کے مطابق جب روشنی کسی دھاتی جسم سے ٹکراتی ہے تو یہ اس دھات کے ایٹموں سے الیکٹرانوں کے اخراج کا باعث بنتی ہے۔‘‘

پروفیسر وانگ کے مطابق:’’اس سیل کی تیاری میں اصول یہ اپنایا گیا ہے کہ ایک ایسی جیومیٹری تیار کی جائے، جس کے تحت دھات پر پڑنے والی روشنی منعکس ہونے کے بعد پھر دھات پر ہی پڑے، ساتھ ہی ڈائی مالیکیولز کی صورت میں روشنی کے سامنے ایک ایسا جسم رکھ دیا جائے، جس کے لئے روشنی انتہائی رغبت رکھتی ہے، اس طرح آنے والی روشنی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔‘‘

اس سے قبل شمسی توانائی سے برقی توانائی کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہی یہی تھی کہ اس مقصد کے لئے بہت بڑے بڑے پینلز کی ضرورت پڑتی تھی، جن پر آنے واالی لاگت اس سے حاصل ہونے والی توانائی سے کہیں زیادہ ہوتی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ انتہائی بڑے ہوتے تھے اور ان کی تنصیب کے لئے بہت زیادہ جگہ کی ضرورت ہوتی تھی جبکہ ان سے حاصل ہونے والی توانائی اس قدر نہیں ہوتی تھی۔ پروفیسر وانگ کے مطابق اس طریقے سے سولر سیل کی تیاری انتہائی سستی ہوگی اور اس کی تیاری کے لئے بھی کسی مشکل عمل سے نہیں گزرنا پڑے گا۔ تاہم وانگ کا کہنا ہے کہ فی الحال اس طریقے سے بجلی کی تیاری کی شرح موجودہ سیلیکون بیسڈ فوٹو وولٹیک پینلز کے مقابلے میں کم ہے۔ تاہم فائبر آپٹک پر ڈائی سیل کے تہہ میں اضافہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے مستقبل قریب میں زیادہ بجلی پیدا کی جا سکے گی۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امجد علی