1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سہراب گوٹھ کے دینی مدرسے سے 68 بچے برآمد

سہراب گوٹھ میں ایک دینی مدرسے سے زنجیروں میں جکڑے ہوئے بچوں کی بازیابی نے مغربی دنیا کے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ مدرسوں کے بچوں کو دہشت گردی کے لیے تیار کرنے کے لیے پاکستان کے دینی مدارس کردار ادا کر رہے ہیں۔

default

کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں جس جگہ دینی مدرسہ اورمسجد زکریا واقع ہے، اس کے قریب ہی ایک افغان خیمہ بستی ہے جبکہ اسی علاقے سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرگرم طالبان کے مختلف گروپوں سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد بھی گرفتار ہو چکی ہے۔ ان میں سے اکثریت کا تعلق طالبان کے محسود گروپ سے ہے۔ مدرسہ اور جامعہ مسجد زکریا سے برآمد کیے گئے ناظم آباد کے ایک طالب علم کا کہنا ہے کہ مدرسے میں انہیں طالبان بنایا جا رہا تھا اورجلد ہی انہیں ٹریننگ کے لیے قبائلی علاقے میں بھجوایا جانا تھا۔

پاکستان میں چوبیس ہزارسے زائد رجسٹرڈ دینی مدارس کا تعلق دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ مسالک سے ہے۔ ان میں جماعت اسلامی کے مدرسے بھی شامل ہیں۔ ان پانچوں مکاتب فکر کے ملک بھر کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور قبائلی علاقوں میں سات ہزارسے زائد چھوٹے بڑے دینی مدارس قائم ہیں۔ حال ہی میں سوات اور وزیرستان میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کے دوران بعض مدارس کو پاکستانی سکیورٹی فورسزکے علاوہ سرحدی علاقوں میں واقع مدارس کو نیٹو کی طرف سے مبینہ ڈرون حملوں کا نشانہ بھی بنایا گیا، جن میں جماعت اسلامی سے وابستہ سینیٹر ہارون رشید کا مدرسہ سر فہرست ہے جہاں طلبا کو عسکری تربیت دینے کے علاوہ مبینہ طور پر مقامی طالبان کو تحفظ بھی فراہم کیا جاتا تھا۔

Madrassa in Pakistan

اسلام آباد کے نواح میں ایک مدرسے میں زیر تعلیم طالبات

دینی مدارس کے دہشت گردی میں استعمال ہونے کے خدشات تو منظرعام پر آ چکے ہیں مگر ٹھوس ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے انتہا پسندانہ اور جہادی سرگرمیوں میں ملوث مدارس ہر بارحکومتی کارروائی سے بچ جاتے ہیں۔ مدرسہ اور مسجد زکریا میں جہادی تربیت کے لیے استعمال ہونے کا معاملہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل کراچی ہی کے ایک معروف دینی مدرسے جامعہ بنوریہ اورجامعہ الدرسات کے بارے میں بھی یہ اطلاعات منظر عام پر آ چکی ہیں کہ وہاں زیرتعلیم بعض طلبا کے افغان طالبان کے علاوہ پاکستانی طالبان سے بھی قریبی روابط ہیں۔ جامعہ بنوریہ میں امریکہ سمیت مختلف مغربی اور افریقی ممالک کے تقریباﹰ ڈھائی ہزارطلبہ زیرتعلیم ہیں، جن پر نہ صرف مغرب بلکہ خود پاکستانی حلقوں کے تحفظات بھی گاہے بگاہے سامنے آتے رہتے ہیں۔

مذہبی اسکالر ڈاکٹر منیر کا کہنا ہے، ’’افغانستان میں طالبان کے سامنے آنے اور پاکستانی مذہبی حلقوں میں ان کی حمایت کے بعد مدارس پر انگلیاں اٹھنے کا آغاز ہوا جبکہ مغربی حلقوں کے خدشات کو اس تقویت ملی جب ملکی تاریخ میں پہلی بار پاکستانی مدارس میں صرف اس لیے تعطیل کر دی گئی ہے کہ طالبان کی مدد کے لیے طلبا کو افغانستان بھجوا دیا گیا اور پاکستان کے دینی مدارس کی بڑی تعداد نے افغان جہاد میں حصہ لے کر طالبان کی مدد کے لیے راہ ہموارکی۔ مگرماضی میں اس معاملے میں پاکستان کو مغربی قوتوں کی حمایت حاصل تھی۔‘‘

Madrassa Jamia

میران شاہ کے قریب قائم جامعہ حقانیہ نامی مدرسے کا ایک فضائی منظر، فائل فوٹو

پاکستان کے دینی مدارس کو پانچوں مکاتب فکر پر مشتمل ایک انتظامی بورڈ اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان چلاتا ہے جبکہ ہر مکتبہ فکر کے دینی مدارس کے اپنے علیحدہ علیحدہ بورڈ بھی قائم ہیں، جو تعلیمی نظام سے امتحانی نظام تک تمام امورکی نگرانی کرتے ہیں۔ مدارس میں جدید تعلیم کے لیے شروع ہونے والے پروجیکٹ حکومت کی سست روی کی وجہ سے ناکامی سے دوچار ہیں اور بیرون دنیا سے مدارس کے طلبا کو جدید تعلیم سے روشناس کرانے کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈ بیوروکریسی کی کاغذی کارروائی کی نذر ہو چکے ہیں، جس کا حکومت پاکستان اور بیرونی ملکوں نے بھی کوئی نوٹس نہیں لیا، جنہوں نے اس مقصد کے لیے بھاری سرمایہ حکومت پاکستان کے حوالے کیا تھا۔

پاکستان کے دینی مدارس اورحکومت کے درمیان سرد جنگ کے علاوہ مغربی ممالک سے بھی اس امر پر اختلافات ہیں کہ دینی مدارس دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ تاہم پانچوں مکاتب فکر کے بورڈ اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ قاری حنیف جالندھری اس سے اتفاق نہیں کرتے اورکہتے ہیں کہ مدارس کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کیے جائیں۔ مدرسہ اور مسجد زکریا کی جوکیفیت میڈیا پر نشرہوئی، اس سے تو ثابت ہوگیا ہے کہ طلبا کو جہاد کے نام پر دہشت گردی کے لیے برین واش کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی لیکن پاکستان میں پیچیدہ عدالتی اور تحقیقاتی نظام کی وجہ سے دوسرے مدارس کی طرح اس بار بھی یہ ثابت کرنا مشکل ہوگا کہ کراچی کا یہ مدرسہ دہشت گردی میں ملوث رہا ہے۔

رپورٹ: رفعت سعید، کراچی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM