1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

سگریٹ نوشی: ہالی وُڈ کی فلموں کا ’لازمی حصہ‘

ہالی وُڈ کی فلموں میں گزشتہ پانچ برس کے دوران سگریٹ نوشی کے مناظر میں واضح کمی ہوئی ہے۔ تاہم ایک تازہ سروے کے مطابق سگریٹ ابھی تک بیشتر فلموں کا ایک لازمی حصہ ہے۔

default

اس سروے کا اہتمام امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے کیا جبکہ یہ رپورٹ جمعرات کو جاری کی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ فلموں میں سگریٹ نوشی کے مناظر نوجوانوں کو اس عادت کی جانب راغب کر سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مصنفین نے سفارش کی ہے کہ مووی ریٹنگ طے کرتے وقت فلم میں سگریٹ نوشی کے مناظر پر بھی غور کیا جانا چاہئے۔ یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ ایسے مناظر والی فلموں میں سگریٹ نوشی سے پیدا ہونے والے مضرصحت اثرات سے بھی آگاہ کیا جانا چاہئے۔

سروے کے نتائج کے مطابق فلموں میں 2005ء کی مقابلے میں 2009ء تک سگریٹ نوشی کے مناظر میں نصف تک کمی آ چکی تھی۔ تاہم 2009ء میں بننے والی صفِ اوّل کی نصف فلموں میں ایسے مناظر دکھائے گئے۔ ان میں سے 54 فیصد فلموں کی ریٹنگ PG-13 تھی۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ 1998ء میں اس سے کہیں زیادہ کم فلموں میں کرداروں کو سگریٹ نوشی کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

امریکی ایوان نمائندگان کے دو ارکان ڈیموکریٹ ایڈورڈ مارکے اور ریپبلیکن جوزف پِٹس کا کہنا ہے کہ امریکہ کی موشن پکچرز ایسوسی ایشن کو سگریٹ نوشی کے خلاف سخت اقدامات اختیار کرنے کے لئے فلمی صنعت پر زور دینا چاہئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ فلموں میں ایسے مناظر سے نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کی عادت میں اضافے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ ایسی فلمیں دیکھنے والے نوجوانوں کی جانب سے سگریٹ نوشی شروع کرنے کا امکان دیگر نوجوانوں کی نسبت تین گنا زیادہ ہے۔

یہ سروے رپورٹ 1991ء سے 2009ء کے دوران بننے والی فلموں کے تجزیے کے بعد مرتب کی گئی ہے، جس کے لئے فلموں میں دکھائے گئے سگریٹ نوشی کے مناظر کا شمار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1998ء میں ریاستی اٹارنی جنرلز اور سگریٹ کمپنیوں کے درمیان ماسٹر سیٹلمنٹ ایگریمنٹ کے بعد فلموں میں سگریٹ نوشی کے مناظر میں بتدریج اضافہ ہوا۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے موشن پکچرز ایسوسی ایشن نے کوئی خاص اقدامات نہیں کئے، تاہم بعض فلم سٹوڈیوز نے رضاکارانہ طور پر سگریٹ نوشی کے مناظر اپنی فلموں میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس