1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

سگریٹ نوشی کے تباہ کن اثرات

امریکی سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق کے مطابق کسی بھی انسان کے جسم میں پہلی مرتبہ پیئے جانے والے سگریٹ کے چند اولین کش ہی لمحوں میں ایسے جینیاتی نقصانات کی وجہ بن سکتے ہیں، جن کا تعلق سرطان سے ہوتا ہے۔

default

اس تحقیق کے موجودہ ویک اینڈ پر جاری کردہ نتائج کے مطابق بات اگر ایسی جینیاتی تبدیلیوں کی ہو، جن کا براہ راست تعلق سرطان سے جوڑا جا سکتا ہے، تو ایسی تبدیلیوں کے لیے کسی انسان کا طویل عرصے تک سگریٹ نوشی کرنا ضروری نہیں بلکہ یہی جینیاتی نقصانات زندگی میں پہلی مرتبہ کی جانے والی تمباکو نوشی کے دوران شروع کے چند کشوں کے بعد بھی دیکھنے میں آ سکتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج کو تمباکو نوش افراد کے لیے ایک ’فوری لیکن بھرپور تنبیہ‘ کا نام دیتے ہوئے ان محققین نے کہا ہے کہ سگریٹ نوشی کے انسانی جسم پر اثرات اتنے تیز رفتار ہوتے ہیں کہ انہیں دوران خون میں انجیکشن کے ذریعے یکدم داخل کیے گئے کسی بھی مضر صحت مادے کی منتقلی کے ساتھ تشبیہ دی جا سکتی ہے۔

Schock-Foto auf Zigarettenpackungen

سگریٹ یوشی کینسر کی ایک بڑی وجہ ہے

یہ مطالعہ اپنی نوعیت کی ایسی اولین ریسرچ ہے، جس میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح تمباکو میں موجود زہریلے مادے انسانوں میں جینیاتی نقصانات کا سبب بنتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج Chemical Research in Toxicology نامی سائنسی جریدے کے تازہ ترین شمارے میں جاری کیے گئے ہیں، جو امریکن کیمیکل سوسائٹی کی طرف سے شائع کیا جاتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران ماہرین نے تمباکو نوش افراد کے طور پر 12 ایسے رضاکاروں پر اپنی تحقیق مکمل کی، جن کے جسموں میں PAH نامی ماحول کو آلودہ کرنے والے اور زہریلے مادوں کو پتہ چلایا گیا۔ پی اے ایچ مادوں سے مراد پولی سائیکلک ایرومیٹک ہائیڈروکاربنز ہیں، جو تمباکو کے دھوئیں میں بھی موجود ہوتے ہیں اور جلتے ہوئے کوئلوں کے علاوہ ایسی خوراک میں بھی پائے جاتے ہیں جو آگ پر باربی کیو کرتے ہوئے بری طرح جل گئی ہو۔

اس مطالعے کے دوران امریکی سائنسدانوں کو سگریٹ نوش افراد کے جسموں میں ایک ایسا مادہ بھی ملا جو فینانتھرین (Phenanthrene) کہلاتا ہے اور اپنے زہریلے پن کی وجہ سے خاص طور پر DNA کے لیے تباہی اور اس میں تبدیلیوں کے علاوہ سرطان کے مرض کی وجہ بھی بنتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران ماہرین نے دیکھا کہ زیر مطالعہ سگریٹ نوش افراد کے جسموں میں تمباکو نوشی کے محض پندرہ سے لے کر تیس منٹ بعد فینانتھرین نامی مادہ کافی زیادہ مقدار میں ان کے دوران خون کا حصہ بن چکا تھا۔

امریکہ میں اس نئی تحقیق کے لیے مالی وسائل نیشنل کینسر انسٹیٹیوٹ نے مہیا کئے۔ سگریٹ نوش افراد اکثر پھیپھڑوں، منہ اور گلے کے سرطان کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہر روز قریب تین ہزار انسان پھیپھڑوں کے سرطان کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں اور ان میں سے 90 فیصد اموات کی براہ راست وجہ تمباکو نوشی ہوتی ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM