1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

سگریٹ بنانے والے اداروں کا امریکی حکومت کے خلاف مقدمہ

امریکہ میں سگریٹ بنانے والے چار بڑے اداروں نے ملک کی خوراک اور منشیات سے متعلقہ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ ان اداروں کا دعویٰ ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نئی ہدایات غیر آئینی ہیں۔

default

امریکی محکمہ خوراک و منشیات نے حال ہی میں سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کو تمباکو کے تباہ کن اثرات سے متنبنہ کرنے کے لیے ایک تصویری لیبل کے علاوہ تحریری مواد بھی متعارف کروایا ہے۔ اس نئی مہم کا مقصد عوام میں سگریٹ نوشی کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہے۔

امریکہ میں سگریٹ بنانے والے چار بڑے اداروں آر جے رینالڈز یونٹ، لوری لارڈ، لیگیٹ گروپ اور برطانوی امپیریل ٹوبیکو گروپ کامن ویلتھ برانڈز کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ امریکی محکمہ خوراک و منشیات کی طرف سے انہیں ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ ’حکومت کی انسداد تمباکو نوشی کی مہم میں 22 ستمبر 2012 تک شامل ہو جائیں اور اس کی حمایت کریں۔‘

Schock-Foto auf Zigarettenpackungen

سگریٹ ساز اداروں کو پابند بنایا جا رہا ہے کہ وہ اپنی مصنوعات پر اس عادت کی حوصلہ شکنی کے لیے مواد شائع کریں

واشنگٹن کی ضلعی کورٹ میں داخل کی جانے والی شکایتی درخواست میں ان اداروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس حکومتی دباؤ کی وجہ سے اُن کا آزادی اظہار اور آزادی رائے کا وہ حق مجروح ہو رہا ہے، جو اُنہیں امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت حاصل ہے۔

ان اداروں کے مطابق حکومت سگریٹ ساز اداروں پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ اپنی قانونی مصنوعات کے ہر پیکٹ کے آدھے حصے پر حکومت کی تجویز کردہ انسداد تمباکو نوشی کی تصاویر اور جملے تحریر کریں۔ ’’حکومت کی مہم میں سگریٹ ساز اداروں کو ڈبوں پر تحریر کرنے کے لیے جو تصویر اور تحریر مہیا کی گئی ہے، اس سے خریدار کو یہ ترغیب ملے گی کہ وہ سگریٹ نہ خریدے۔‘‘

سگریٹ تیار کرنے والے ان اداروں کے وکیل Floyd Abrams ہیں، جنہیں امریکہ میں آئین کی پہلی ترمیم سے متعلق امور کا ماہر سمجھا جاتا ہے۔ Floyd Abrams کے مطابق حکومت کی طرف سے کسی بھی ایسی تحریر کی اشاعت کے لیے جاری کردہ ہدایات، جن سے یہ تاثر نکلتا ہو کہ کوئی قانونی طور پر تیارکردہ شے نہ خریدے، آئین کی پہلی ترمیم کے منافی ہے۔ اس مقدمے کے حوالے سے امریکی محکمہ برائے خوراک و منشیات کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سن 2009ء میں امریکہ میں متعارف کروائے گئے انسداد تمباکو نوشی قانون کے تحت سگریٹ بنانے والے اداروں پر لازم ہے کہ وہ ہر پیکٹ کے 50 فیصد حصے پر تنبیہی مواد شائع کریں، جبکہ انہیں اپنی ہر اشتہاری مہم کا 20 فیصد تمباکو نوشی کے خلاف خبردار کرنے سے متعلق مواد کے لیے مختص کرنا پڑتا ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امجد علی

DW.COM