1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سکیورٹی وجوہات، سویڈن میں لازمی فوجی سروس دوبارہ متعارف

بائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی سویڈش حکومت سکیورٹی وجوہات کی بنا پر مرد اور خواتین شہریوں کی لازمی فوجی سروس کو دوبارہ متعارف کرا رہی ہے۔ 

Schweden Panzer im Hafen von Visby (Getty Images/AFP/S. Andersson)

سویڈش حکومت کا کہنا ہے کہ اب بھی فوج میں ایک ہزار فوجیوں اور قریب سات ہزار  ریزرو فوجیوں کی ضرورت ہے

سویڈن کے وزیرِ دفاع کے مطابق یورپ اور سویڈن کے ارد گرد سکیورٹی کی صورتِ حال دگر گوں ہے۔ سن 2010 میں سویڈن نے مردوں کے لیے لازمی فوجی سروس کو ختم کر دیا تھا کیوں کہ  حکومت کی فوجی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے رضا کار کافی تعداد میں موجود تھے۔ تاہم خواتین کے لیے لازمی  فوجی سروس سویڈن میں کبھی  نہیں تھی۔

 سویڈش حکومت کے بقول،’’ تمام  دستیاب رضا کار ملکی مسلح افواج کے لیے مناسب تربیت یافتہ افرادی قوت کی فراہمی کے لیے ناکافی ہیں اس لیے  فوج میں لازمی بھرتی کا عمل دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

سویڈن مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا رکن نہیں ہے اور گزشتہ برس ستمبر میں سویڈن نے بحیرہ بالٹک کے گوٹ لینڈ نامی جزیرے پر اپنے فوجی دستے تعینات کیے تھے۔ سویڈن کے وزیرِ دفاع پیٹر ہُلت کوِیسٹ نے اس اقدام کو سن 2014 میں روس کے کریمیا کے ساتھ الحاق کے بعد ہمسایہ بالٹک ریاستوں ایسٹونیا ، لیٹویا اور لتھوینیا پر دباؤ میں اضافے کے تناظر میں روس کے لیے سگنل قرار دیا تھا۔

سویڈش مسلح افواج کی ویب سائٹ پر دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ملکی مسلح افوج  میں بیس ہزار افراد  خدمات سرانجام دے رہے ہیں جن میں 84 فی صد مرد اور سولہ فی صد خواتین ہیں۔ تاہم سویڈش حکومت کا کہنا ہے کہ اب بھی فوج میں ایک ہزار فوجیوں اور قریب سات ہزار  ریزرو فوجیوں کی ضرورت ہے۔

جمعرات 2 مارچ کو منظور کیے گئے منصوبے کے مطابق فوجی خدمات کے لیے  ہر سال تقریباﹰ چار ہزار نوجوان شہریوں کو طلب کیا جا سکتا ہے۔ دیگر سویڈش باشندے اب بھی رضاکارانہ طور پر فوج میں بھرتی ہو سکیں گے۔

 خود کو حقوقِ نسواں کا علمبردار کہنے والی سویڈش حکومت  کے مطابق تازہ بھرتیاں صنفی امتیاز سے بالا تر ہوں گی اور فوج میں مرد و خواتین دونوں کو شامل کیا جائے گا۔

سویڈن میں لازمی فوجی سروس کا عمل 1901 ء میں متعارف کرایا گیا تھا جسے 109 برس جاری رکھنے کے بعد 2010ء میں ختم کر دیا گیا تھا۔

DW.COM