1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سکیورٹی فورسز کو من مانی کی اجازت نہیں، بھارتی سپریم کورٹ

بھارت میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں اور متنازع آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ کے غلط استعمال کے الزامات کے حوالے سے سپریم کورٹ نے انتہائی اہم فیصلے میں کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کو من مانی کارروائی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

بھارتی عدالت عظمٰی کے اس حکم کو موجودہ حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جارہا ہے۔ مودی حکومت نے دلیل دی تھی کہ تشدد زدہ علاقوں میں انتہاپسندوں اور سماج دشمن عناصر کے خلاف کارروائی کرنے پر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو جواب دہ بنانے سے ان کا حوصلہ پست ہو گا۔ آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ (افسپا) کے تحت سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف کسی طرح کی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ تاہم جسٹس ایم بی لوکور کی صدارت والی دو رکنی بنچ نے حکومت کی اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا، ’’قانون بالکل واضح ہے، ا گرکسی آرمی اہلکار سے بھی کوئی جرم سرزد ہوتا ہے تو اسے بھی تعزیرات ہند میں سزا سے مستشنٰی رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘‘ عدالت کا مزید کہنا تھا، ’’سکیورٹی اہلکاروں پر نقصان دہ اور حوصلہ شکن اثرات اس معاملے کو دیکھنے کا ایک پہلو ہے لیکن ایک شہری کے نقطہ نظر سے کسی کو بندوق کے سائے میں رکھنا، اس کی بھی حوصلہ شکنی ہے اور بھارت جیسی آئینی جمہوریت میں اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔‘‘

عدالت نے یہ حکم شمال مشرقی ریاست منی پور میں 2000ء اور 2012ء کے دوران سکیورٹی فورسز کے ساتھ فرضی مقابلوں کے 1528معاملات کی جانچ کرانے پر اپنی رضامندی دیتے ہوئے سنایا۔ عدالت عُظمٰی کا کہنا تھا، ’’یہ جمہوریت کی ضرورت ہے، یہ قانون کی حکمرانی کو بچانے کے لیے ضرور ی ہے اور انفرادی آزادی کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ اگر ہماری مسلح افواج صرف الزام کی بنیاد پر یا صرف اس شبہ میں کہ کوئی شخص’دشمن‘ ہے اسے قتل کردے تو اس سے نہ صرف قانون کی حکمرانی بلکہ ہماری جمہوریت بھی سنگین خطرات سے دوچار ہوجا ئے گی۔‘‘ فاضل ججوں نے مزید کہا، ’’کسی تشدد زدہ علاقے میں کسی شخص کو صرف اس بنیاد پر دہشت گرد یا انتہاپسند قرار نہیں دیا جاسکتا کہ اس کے پاس سے ہتھیار برآمد ہوا ہے یا کسی ممنوعہ تنظیم کی رکنیت اس کو سزا دلانے کے لیے کافی نہیں۔‘‘

بھارتی حکومت نے 1990ء میں یہ متنازعہ قانون کشمیر میں بھی نافذ کیا کر دیا

بھارتی حکومت نے 1990ء میں یہ متنازعہ قانون کشمیر میں بھی نافذ کیا کر دیا



حقوق انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس الرٹ منی پور اور ’ایکسٹرا جوڈیشل ایگزیکیوشن وکٹم فیملیز ایسوسی ایشن‘ نے مبینہ فرضی انکاونٹر میں 1528 افراد کی ہلاکت کی قومی تفتیشی بیورو یا خصوصی تفتیشی ٹیم سے انکوائری کرانے اور آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ کو منسوخ کرنے کی عدالت سے درخواست کی تھی۔

خیال رہے کہ آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ کی جڑیں انسانی حقوق کو یکسر نظر انداز کرنے والے 1942ء کے ایک برطانوی نوآبادیاتی قانون سے ملتی ہیں۔ بھارت کی حکومت نے سب سے پہلے اسے ملک کے شمال مشرقی حصے، پھر پنجاب اور 1990ء میں کشمیر میں نافذ کیا۔حقوق انسانی کی تنظیمیں اسے منسوخ کرنے کامسلسل مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیپی من جیکب کہتے ہیں کہ بھارت کے دیگر علاقوں میں رہنے والے افسپاجیسے سیاہ قانون کی ہولناکی کا اندازہ قطعی نہیں لگا سکتے جن سے کشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں کے شہریوں کو مسلسل دوچار ہونا پڑ رہا ہے: ’’یہ ایک ایسا قانون ہے جس میں شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کردیا جاتا ہے۔‘‘ جیکب کا کہنا ہے کہ گو یہ پہلا موقع نہیں جب سپریم کورٹ نے افسپا پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے تاہم پہلی مرتبہ اس نے فرضی مقابلوں اور فوج کے ذریعے طاقت کے غلط استعمال کی شکایتوں کی انکوائری کرانے کا حکم دیا ہے۔

’’کسی کو بندوق کے سائے میں رکھنا۔۔۔ بھارت جیسی آئینی جمہوریت میں اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی‘‘

’’کسی کو بندوق کے سائے میں رکھنا۔۔۔ بھارت جیسی آئینی جمہوریت میں اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی‘‘


پروفیسر جیکب کہتے ہیں کہ ماضی میں کئی انکوائری کمیٹیوں اور کمیشنوں نے افسپا جیسے ’سیاہ قوانین‘ کو ختم کرنے سفارش کی، ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت متعد غیر سرکاری تنظیمیں بھی اس قانون کے خلاف آواز بلند کرتی رہی ہیں اور کانگریس کی قیادت والی سابقہ یو پی اے حکومت میں وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اسے مرحلہ وار ختم کرنے کے لیے آمادہ بھی ہوگئے تھے لیکن مسلح افواج اور وزیر دفاع کو اس پر اعتراض تھا۔

شمال مشرقی ریاستوں میں یہ قانون سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ منی پور کی سماجی کارکن ایروم شرمیلا اس قانون کو منسوخ کرانے اور فوجی اہلکاروں کی زیادتیوں کے خلاف مقدمہ چلانے کے مطالبے پر گزشتہ پندرہ سال سے زیادہ عرصے سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ 2015ء میں اروناچل پردیش حکومت نے مزید علاقوں کو اس قانون کے دائرہ میں شامل کرنے کے مرکز کے حکم کو ماننے سے انکار کردیا تھا، جب کہ تری پورہ کی حکومت نے افسپا کو اٹھا لیا تھا۔

پروفیسر جیکب کاخیال ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے اثرات جموں و کشمیر پر بھی مرتب ہوں گے۔ یہ فیصلہ صحیح سمت میں پہلا قدم ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی حکومت اور مسلح افواج کو عدالت کے سخت فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔