1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سکیورٹی خدشات: امریکیوں کو جنوبی ترکی چھوڑنے کے احکامات

امریکی محکمہٴ خارجہ اور محکمہٴ دفاع نے منگل کے روز امریکی سفارت کاروں اور فوجی عملے کے کنبوں کو سکیورٹی خدشات کے باعث جنوبی ترکی میں اپنی پوزیشنیں چھوڑ کر وہاں سے نکل جانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

Türkei US Armee in Incirlik

انچرلک کے اڈے پر خدمات انجام دیتے امریکی فوجی

ان دونوں امریکی محکموں نے کہا ہے کہ اڈانا میں امریکی قونصل خانے اور انچرلک ایئر بیس کے ساتھ ساتھ دو دیگر مقامات پر بھی موجود عملے کے اہل خانہ فوری طور پر وہاں سے نکل جائیں۔ ’فوری طور پر نکلنے کے احکامات‘ کا مطلب یہ ہے کہ ان افراد کی دیگر مقامات پر منتقلی کے تمام تر اخراجات امریکی حکومت ادا کرے گی۔

امریکی فوج کی یورپی کمان کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام ’خطّے میں سلامتی کے بدستور جاری خدشات کے باعث متعلقہ علاقوں سے اہلِ خانہ کی فوری اور بحفاظت واپسی کو یقینی بنائے گا‘۔

امریکی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ فرمان میں اڈانا کے قونصل خانے کے عملے کو جب کہ فوج کے جاری کردہ بیان میں انچرلک، ازمیر اور مگلا میں تعینات عملے کو مخاطب کیا گیا ہے۔

Auftanken einer F-16 Incirlik Air Base Türkei

انچرلک اڈے کا ایک اور منظر: فوجی عملے کے اہلِ خانہ کو نکالنے کا مقصد ’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے طاقتور حلیف ترکی کی مدد کے لیے امریکی فورسز کی لڑائی لڑنے کی صلاحیت برقرار رکھنا ہے‘

یہ احکامات ایک ایسے وقت پر جاری ہوئے ہیں، جب ہمسایہ ممالک عراق اور شام میں دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے عسکریت پسندوں کے خلاف جاری جنگ کی وجہ سے پورے ترکی میں سلامتی کے خدشات عروج پر پہنچ چکے ہیں۔ حملوں کے بڑھتے ہوئے خدشات کے باعث امریکی شہریوں کو ترکی کے سفر سے بھی خبردار کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ احکامات ایک ایسے وقت پر بھی جاری ہوئے ہیں، جب ترک صدر رجب طیب ایردوآن اپنے امریکی ہم منصب باراک اوباما کی طرف سے منظم کردہ نیوکلیئر سمٹ میں شرکت کے لیے واشنگٹن پہنچ رہے ہیں۔

یورپی کمان کی طرف سے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے:’’ہمیں اندازہ ہے کہ اس اقدام سے ہمارے فوجیوں کے اہلِ خانہ کی زندگیوں میں خلل پڑے گا لیکن اُن کی سلامتی ہمارے لیے مقدم ہے اور ہم اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے طاقتور حلیف ترکی کی مدد کے لیے ہماری فورسز کی لڑائی لڑنے کی صلاحیت برقرار رہے۔‘‘

ابھی یہ بات پوری طرح سے واضح نہیں ہے کہ کتنے کنبے ان احکامات کے نتیجے میں متاثر ہوں گے لیکن امریکی محکمہٴ دفاع کے احکامات کا اطلاق تقریباً 680 اہلِ خانہ پر ہو گا۔ گزشتہ سال ستمبر میں ترکی کی جانب سے اس اعلان کے بعد کہ وہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے عسکریت پسندوں کے خلاف زیادہ بھرپور جنگ کا ارادہ رکھتا ہے، امریکی دفترِ خارجہ اور محکمہٴ دفاع نے دو مقامات سے اپنے شہریوں کی رضاکارانہ واپسی کا آغاز کر دیا تھا۔

Bildergalerie Hagia Sophia

ترکی کی سیر و سیاحت کو جانے والے غیر ملکیوں کی تعداد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں دَس فیصد کمی دیکھی جا رہی ہے (تصویر میں استنبول کا تعمیراتی شاہکار حاجیہ صوفیہ)

دریں اثناء پتہ چلا ہے کہ ترکی کے سفر پر جانے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں دَس فیصد کمی دیکھی جا رہی ہے۔ ایک ایسے ملک کے لیے یہ ایک تشویشناک خبر ہے، جہاں کی معیشت کا بڑی حد تک دار و مدار سیاحت پر ہے۔ وزارتِ سیاحت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مہینے 1.24 ملین سیاح ترکی پہنچے۔ گزشتہ سال اس مہینے میں یہ تعداد 1.38 ملین ریکارڈ کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ روس کے ساتھ ایک روسی طیارے کو مار گرائے جانے کے بعد سے جاری تنازعے کی وجہ سے بہت کم تعداد میں روسی سیاح ترکی کا رخ کر رہے ہیں۔

DW.COM