1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

سپر کمپیوٹر کی جسامت کم کرنے کا تحقیقی پلان

کمپیوٹر سائنسدان مسلسل اس کوشش میں ہیں کہ سپر کمپیوٹر کی جسامت کو کسی طور کم کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں معروف امریکی ادارے آئی بی ایم نے مثبت پیش رفت کا یقین دلایا ہے۔

default

سپر کمپیوٹر اور ڈیفنس ٹیکنالوجی

گزشتہ دنوں چین کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ اس نے دنیا کا انتہائی تیز رفتار سپر کمپیوٹر مکمل کر کے اسے فعال بھی بنا لیا ہے۔ اس کمپیوٹر میں ہزاروں اعداد کی ضرب اور تقسیم کے ناممکن خواب کو ممکن بنا دیا گیا ہے۔ اب سپر کمپیوٹر کی بڑی جسامت کے حوالے سے خبر آئی ہے کہ مستقبل میں اس کا وجود چینی کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے یا ’شوگر کیوب‘ جتنا ہو سکتا ہے۔

کمپیوٹر تیار کرنے والے معروف امریکی ادارے آئی بی ایم (IBM)کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ سپر کمپیوٹر کی جسامت میں کمی کی حوالے سے جس تحقیقی عمل کو جاری رکھا گیا ہے، اب اس میں مثبت اشارے سامنے آنے لگے ہیں۔ سپر کمپیوٹر میں تکنیکی آلات کے درمیان پنکھوں کی تنصیب کی جاتی ہے۔ اب ایسے امکانات بھی پیدا ہوئے ہیں کہ پنکھوں کی جگہ پانی کی سپلائی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ پانی کے مسلسل بہاؤ سے گرم ہوتے پروسیسرز کوٹھنڈک مہیا ہوتی رہے گی۔ سپر کمپیوٹر میں یہی ایک سے زیادہ پروسیسرز ڈیٹا کی منتقلی اور بڑے اور مشکل حسابی کلیوں کے حل میں معاونت کرتے ہیں۔ اس معاونت کے عمل میں توانائی کے بہت زیادہ استعمال سے پروسیسرز کے بہت زیادہ گرم ہونے کا یقینی امکان ہوتا ہے۔

Super Personal Computer CeBIT 2009

جرمنی میں گزشتہ برس CeBiT نمائش میں پیش کیا جانے والا سپر پرسنل کمپیوٹر

اب کمپیوٹر سائنسدانوں نے ایک مفروضے کو عملی شکل دے دی ہے۔ اس بارے میں کچھ عرصہ قبل کہا جاتا تھا کہ سپر کمپیوٹر کی جسامت کو کم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے اندر لگے پروسیسرز کم سے کم توانائی خارج کریں۔ آئی بی ایم کے ایک سائنسدان ڈاکٹر برونو مائیکل کے مطابق مستقبل میں کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا انحصار اس کی رفتار کی بجائے اس کے توانائی دوست ہونے پر ہو گا۔ ڈاکٹر برونو کی ٹیم نے ایک چھوٹےریفریجریٹر جتنا سپر کمپیوٹر مکمل کر کے اس پر تجربات شروع کر دئے ہیں اور اس میں پنکھے کی جگہ پانی استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو گرین کریڈینشل کا نام دیا گیا ہے۔ اس نئے سپر کمپیوٹر کو ’ایکوسار‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ایکوا پانی کا لاطینی زبان میں نام ہے۔ ڈاکٹر برونو کی ٹیم کے مطابق ایکواسار نامی سپر کمپیوٹر اس وقت دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تمام سپر کمپیوٹرز کے مقابلے میں پچاس فیصد کم انرجی پیدا کرتا ہے۔ اس کمپیوٹر میں گیارہ ارب مختلف آپریشنز موجود ہیں۔

ڈاکٹر برونو کے مطابق ایکوا سار کے بعد اگلے دس سے پندرہ سالوں کے اندر سپر کمپیوٹر کی جسامت کو چینی کے کیوب جتنا بنانا ہے۔ اس منی سپر کمپیوٹر میں بھی گرین کریڈینشل ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔ اس منی کمپیوٹر میں گرم ہونے والے پروسیسرز کو کس طرح ٹھنڈا کیا جائے گا، اس بارے میں ڈاکٹر برونو کی ٹیم ابھی سر جوڑے بیٹھی ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس