1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کے منصوبے پر کام کیوں رکوایا؟

بحریہ ٹاؤن کراچی میں زمینوں کے حصول کے لیے گھپلوں میں سیاستدان، نوکر شاہی، پولیس اور آزاد میڈیا بھی پوری طرح ملوث ہیں۔ ماہرین کے مطابق اراضی کی خرد برد سے متعلق اب ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اسکینڈل منظر عام پر آنے کو ہے۔

Pakistan Bahria Town - Malik Riaz

پاکستانی پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض

پاکستان کے ریئل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض نوّے کی دہائی میں پی ڈبلیو ڈی کے ٹھیکیدار ہوا کرتے تھے، جو اس وقت دن دگنی رات چوگنی ترقی کر کے ملک کی سب سے طاقت ور شخصیت بن چکے ہیں۔ ملک ریاض کئی بار اپنے ٹی وی انٹرویوز میں یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ وہ ہر کام کے لیے ’فائل کو پہیے‘ لگا دیتے ہیں اور اسی لیے ان کا کوئی بھی کام کبھی نہیں رکتا، چاہے وہ ’کام‘ ایک ریس کے دوران ایک معصوم بچے کو اپنی گاڑی کے نیچے کچل دینے والے ملک ریاض کے بیٹے کی بیرون ملک روانگی سے متعلق ہی کیوں نہ ہو۔

ایسے کسی کام کے لیے ملک ریاض مثال کے طور پر کراچی میں (اس دور کے) وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک سے ملاقات کرتے ہیں، پھر ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل وسیم احمد کو بھی نیشنل کرائسز منیجمنٹ سیل کے کیمپ آفس میں طلب کیا جاتا ہے اور یوں اسی رات ملک ریاض کا بیٹا اپنا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ہونے کے باوجود بیرون ملک چلا جاتا ہے۔

پاکستانی سپریم کورٹ نے اگست دو ہزار گیارہ میں کراچی میں بدامنی کے از خود نوٹس کے بعد مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا تو شہر میں امن و امان کی خراب صورت حال کی بڑی وجوہات میں سرکاری اراضی اور نجی زمینوں پر قبضے اور خردبرد معلوم ہوئیں۔ لہٰذا عدالت نے اس معاملے کی سماعت علیحدہ سے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

پھر دو ہزار چودہ میں سماجی کارکن محمود اختر نقوی نے سپریم کورٹ میں بحریہ فاؤنڈیشن کے خلاف درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ اس منصوبے کے لیے دی گئی زمینوں کے حصول کے لیے بڑے پیمانے پر فراڈ کیا گیا ہے۔ پہلے اس منصوبے کے لیے شہر سے دور بنجر اور بیابان زمین سستے داموں خرید گئی اور بعد میں اسی سستی زمین کے بدلے حکومت اور افسر شاہی سے ملی بھگت کر کے شہر کے قریب مہنگی زمین حاصل کر لی گئی۔

درخواست گزار نے سابق وزیر اعلٰی سندھ سید قائم علی شاہ کے ساتھ ساتھ سابق صوبائی وزیر بلدیات شرجیل انعام میمن، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو شاذر شمعون اور ڈپٹی کمشنر ملیر کے علاوہ ایم ڈی ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) کو بھی اس فراڈ میں ملوث قرار دیا تھا، جنہوں نے اپنے ’اختیارات کا ناجائز‘ استعمال کرتے ہوئے مدعی کے بقول کم از کم تین سو ارب روپے کی کرپشن کی تھی۔

پھر عدالت نے اس درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ تاہم نیب کی جانب سے گزشتہ دو برسوں کے دوران پیش کی گئی دو تحقیقاتی رپورٹیں عدالت نے مسترد کر دیں مگر گزشتہ ہفتے نیب نے عدالت میں تیسری رپورٹ اس درخواست کے ساتھ پیش کی کہ اسے پبلک نہ کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایم ڈی اے نے اس منصوبے کے لیے 43 دیہات کی کنسالیڈیشن کے بارے میں نوٹیفیکیشن اور کالونائزیشن ایکٹ انیس سو بارہ کی لازمی شقوں کی خلاف ورزی کی تھی۔

نیب کی اس رپورٹ میں مبینہ فراڈ میں ملوث شخصیات کے ناموں کے بجائے صرف عہدوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم یہ ضرور بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کے لیے زمین دینے کا نوٹیفیکیشن سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے جاری کیا تھا، جن کو اس کا اختیار ہی نہیں تھا، جب کہ ری ایڈجسٹمنٹ، ری ایکسچینج اور ری کنسالیڈیشن کا مقصد کراچی کے لیے متعارف کرائے گئے پانی کے منصوبے ’کے فور‘ کو بحریہ ٹاؤن سے گزارنا تھا تاکہ بحریہ ٹاؤن میں پانی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

عدالت نے نیب کی رپورٹ کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے حکومت سندھ کو اس حوالے سے شفاف تحقیقات کی ہدایت کی ہے اور ساتھ ہی اس منصوبے کے لیے دی گئی بارہ ہزار پانچ سو ایکٹر زمین میں سے ساڑھے پانچ ہزار ایکٹر سے زائد رقبے پر جاری تعمیراتی کام فوری طور پر بند کرانے کا حکم بھی دے دیا۔

اتنی بڑی کارروائی کے باوجود کرپشن کے خلاف دن رات ڈھول پیٹنے والا پاکستانی میڈیا خاموش ہے۔ اکا دکا ٹی وی چینلز اور اخبارات سے واجبی سے خبریں نشر اور شائع کی گئیں، جو بحریہ ٹاؤن کے بھاری بھرکم اشتہارات کے بوجھ تلے دب گئیں۔ حیرانی کی بات تو یہ بھی ہے کہ نجی ٹی وی چینلز کے اینکرز کی فوج میں سے بھی کسی کو تاحال یہ ’موقع ہی نہیں ملا‘ کہ ملکی تاریخ میں پراپرٹی کے اس سب سے بڑے اسکینڈل سے متعلق لب کشائی کر سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس ’خاموشی‘ کی بنیادی وجہ ملک ریاض کی پالیسی ہے، جو ریٹائرڈ جرنیلوں، سیاست دانوں، بیوروکریسی، پولیس اور میڈیا شخصیات کے لیے یکساں طور پر کام کرتی ہے۔ ملک ریاض کے ادارے میں کئی نامور جرنیل ملازمتیں کرتے ہیں، خفیہ اداروں میں کام کرنے والے ریٹائرڈ افسران کو بھی ترجیحی بنیادوں پر اسی ادارے میں ملازمتیں دی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ اخبارات اور ٹی وی چینلز کو بھاری بھرکم اشتہارات کے ذریعے خاموش کر دیا گیا ہے اور بے شمار اینکرز کے منہ مرسیڈیز کاروں سمیت قیمتی تحائف کے ذریعے بند کر دیے گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر بڑے ٹی وی چینل میں ایک یا دو اور کہیں کہیں تو تین تین اینکرز ایسے بھی ہیں، جو ملک ریاض کے ’احسانات‘ تلے دبے ہوئے ہیں۔

باخبر ذرائع کے مطابق ملک کی مقتدر قوتیں اس معاملے کی تحقیقات چاہتی ہیں، جن کا ’اصل محور ملک ریاض نہیں بلکہ سابق ملکی صدر آصف علی زرداری‘ ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سندھ حکومت نے زمین اپنی مرضی سے ملک ریاض کو نہیں دی تھی۔ لہٰذا جب قائم علی شاہ کو اس حوالے سے بلایا جائے گا، تو تقریباﹰ یقینی سی بات ہے کہ اس میں بہت سے پردہ نشینوں کے نام بھی آئیں گے۔

نوّے کی دہائی میں سندھ کے وزیر اعلٰی سید عبداللہ شاہ کے دور میں بھی ’کیپ ماؤنز‘ کے نام سے ایسا ہی ایک اسکینڈل منظر عام پر آیا تھا، جس میں بعد میں آصف علی زرداری کا نام بھی سامنے آیا تھا۔ تب اس معاملے کی تحقیقات کے ذریعے ہی پاکستان نیوی کے سابق سربراہ منصور الحق کی بدعنوانی بے نقاب ہو پائی تھی۔

بحریہ ٹاؤن میں شہریوں کی جانب سے سرمایہ کاری کی بات کی جائے تو کراچی شہر میں ایسے بہت کم لوگ ہیں، جنہوں نے براہ راست اس منصوبے میں پلاٹ خریدے ہیں۔ اصل میں ریئل اسٹیٹ کے کاروبار سے منسلک بہت سے افراد نے اپنی زندگی بھر کی کمائی بحریہ ٹاؤن میں لگا دی ہے۔ ڈیفنس کراچی کی سب سے مشہور توحید کمرشل اسٹریٹ پر قائم اسٹیٹ ایجنسیوں پر اب بھی بحریہ ٹاؤن کے پلاٹوں کی خرید و فروخت جاری ہے اور اعلٰی ترین عدالت کے حکم کے باوجود اس کاروبار پر عملاﹰ کوئی اثر نہیں پڑا۔

اس منصوبے میں ایک پلاٹ خریدنے والی ڈاکٹر عطرت نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے شوہر نے زندگی بھر بیرون ملک محنت مزدوری کر کے جو کچھ کمایا تھا، وہ سب اس پلاٹ کی خریداری پر لگ گیا تھا۔ ’’اب گھپلوں کی خبریں آنا شروع ہوگئی ہیں لیکن ہر ٹی وی پر اشتہار بھی چل رہے ہیں۔ ہم کس کی بات کا یقین کریں؟‘‘

دوسری طرف ایک ریئل اسٹیٹ ایجنٹ، سکندر آفاق کہتے ہیں کہ انہوں نے بحریہ ٹاؤن منصوبے میں سرمایہ کاری کی ہے، کیونکہ ’یہ ایک منافع بخش منصوبہ ہے‘۔ سکندر آفاق نے کہا، ’’بحریہ ٹاؤن اسلام آباد اور لاہور میں بھی ہیں۔ وہاں سے بھی ایسی ہی خبریں آئی تھیں۔ مگر وہاں کام اب بھی جاری ہے۔ میں پرامید ہوں کہ مجھے نقصان نہیں ہوگا۔‘‘

DW.COM