1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

سپاٹ فکسنگ کا الزام، فاسٹ بولر محمد عرفان بھی معطل

پاکستان کے کرکٹ بورڈ نے فاسٹ بولر محمد عرفان کو پاکستان سپر لیگ کرکٹ ٹورنامنٹ کے دوران مبینہ طور پر سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے پر عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ عرفان نے اعتراف کیا ہے کہ ایک بک میکر نے ان سے رابطہ کیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پاکستان کے کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے حوالے سے چودہ مارچ بروز منگل  بتایا ہے کہ محمد عرفان کو معطل کرتے ہوئے انہیں نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ پی سی بی کے اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت محمد عرفان کے سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے شبے میں تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جب کہ عرفان کو اپنی صفائی پیش کرنے کی خاطر چودہ دن کا وقت دیا گیا ہے۔

شرجیل خان اور خالد لطیف کو جواب کے لیے دو ہفتے کی مہلت

مزید تین پاکستانی کرکٹ کھلاڑیوں سے پوچھ گچھ

پاکستان سپر لیگ کا ٹائٹل پشاور زلمی کے نام

پی سی بی کے مطابق چونتیس سالہ عرفان پر انسداد بدعنوانی کوڈ کی دو شقوں کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ تاہم اس بیان میں اس حوالے سے زیادہ تفصیل بیان نہیں کی گئی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا، ’’ انہیں (محمد عرفان) کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے اور اب وہ کرکٹ کے کسی فارمیٹ میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔‘‘

پاکستان سپر لیگ کے پہلے ایڈیشن کی فاتح ٹیم اسلام آباد یونائٹڈ کی دو دوسرے کھلاڑیوں کو بھی ایسے ہی الزامات کے تحت گزشتہ ماہ عارضی طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔ شرجیل خان اور خالد لطیف پر الزام ہے کہ وہ ایک ایسے شخص سے ملے تھے، جو مبینہ طور پر بین الاقوامی سطح پر فعال سپاٹ فکسنگ مافیا کا رکن ہے۔ پاکستان سپر لیگ میں محمد عرفان بھی اسلام آباد ٹیم کی نمائندگی کرتے ہیں۔

Najam Sethi Cricket Pakistan (Tariq saeed)

نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ اسپاٹ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی

پی سی بی نے تین رکنی ٹریبیونل تشکیل دے دیا ہے، جو اس کیس کی تحقیقات کر رہا ہے۔ اس ٹریبیونل کے سربراہ ریٹائرڈ جج اصغر حیدر ہیں۔ محمد عرفان نے پیر کے دن پی سی بی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سامنے اعتراف کیا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ایک بک میکر نے میچ فکس کرنے کے لیے ان سے رابطے کیے تھے۔

محمد عرفان نے کہا ہے کہ وہ ان واقعات کو رپورٹ کرنے میں اس لیے ناکام ہوئے کیوں کہ وہ اپنے والد اور والدہ کی وفات کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار تھے۔ دنیائے کرکٹ میں سب سے زیادہ طویل قامت ہونے کو اعزاز رکھنے والے عرفان کے والد ستمبر جب کہ والدہ جنوری میں انتقال کر گئی تھیں۔ سات فٹ ایک انچ قامت کے مالک محمد عرفان چار ٹیسٹ، ساٹھ ون ڈے جب کہ بیس ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

DW.COM