1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

سپاٹ فکسنگ سکینڈل، پاکستان میں ہلچل برقرار

سپاٹ فکسنگ میں مبنیہ طور پر ملوث تینوں پاکستانی کھلاڑیوں نے بین الاقوامی کرکٹ کونسل سے اپنے لئے اضافی وقت کی درخواست کی ہے۔ دوسری جانب فاسٹ بولر وہاب ریاض نے اس معاملے میں رضاکارانہ طورپر مکمل تعاون کرنے کا اعلان کیا ہے۔

default

سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے مرکزی کردار محمد آصف

سپاٹ فکسنگ میں مبینہ طور پر ملوث پاکستانی کرکٹرز سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف نے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کو ایک خط لکھا ہے۔ ان کے وکیل کے مطابق اس خط کے ذریعے ان تینوں نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا دفاع کرنے اور وضاحت کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کرنے کے لئے آئی سی سی سے اضافی وقت طلب کیا ہے۔کونسل نے ان کی یہ درخواست منظورکر لی۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل ، ٹیسٹ کپتان سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف کو معطل کر چکی ہے اور ضوابط کے مطابق ان معطل کھلاڑیوں کےپاس باقاعدہ کارروائی شروع ہونے سے پہلے 40 دن کا وقت ہے۔ یہ تینوں اس وقت پاکستان میں ہیں، جہاں پولیس نے ان سے اس سکینڈل کے حوالے سے پوچھ گچھ کی ہے۔

Pakistan Sri Lanka Cricket Salman Butt

ٹیسٹ کپتان سلمان بٹ کو اس سکینڈل کا ’رنگ ماسٹر‘ قرار دیا جا رہا ہے

دوسری جانب فاسٹ بولر وہاب ریاض کے وکیل نے بتایا ہےکہ ان کے موکل نے لندن پولیس سےکہا ہے کہ وہ سپاٹ فکسنگ کے معاملے میں رضاکارانہ طور پر تعاون کرنے پر تیار ہیں۔ ان کے وکیل نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں وہاب ریاض نے ایک پولیس اسٹیشن کا دورہ بھی کیا۔

آئی سی سی کے سابق سربراہ احسان مانی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ایک مرتبہ پھر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئےکہا کہ بورڈ کھلاڑیوں کی تربیت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نےکہا کہ دنیا بھر کی طرح پاکستانی کھلاڑی بھی اچھا کماتے ہیں اور اس وجہ سے بدعنوانی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف لالچ کا ہی نتیجہ ہو سکتا ہے۔

Mohammad Amir

اٹھارہ سالہ محمد عامر کا مستقبل خطرے میں ہے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کا میچ فکسنگ سکینڈل میں ملوث ہونا صرف ٹیم میں شامل کرکٹرز کو ہی پریشان نہیں کئے ہوئے ہے بلکہ یہ کرکٹ سے جڑی دیگر شخصیات کوبھی اپنی لپیٹ میں لیتا جا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے میچ فکسنگ کے حوالے سے جو بیان دیا تھا، اس پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے راشد لطیف سے وضاحت طلب کی تھی، جس پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے انہوں قومی کرکٹ اکیڈمی میں کوچنگ کے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔

راشد لطیف نے گزشتہ دنوں ایک ٹیلی وژن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے سپاٹ فکسنگ کے معاملے میں پاکستانی کرکٹ بورڈ کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا ’’ انہوں نے اپنا استعفی بورڈ کو روانہ کر دیا ہے۔ بورڈ کو میری گفتگو اس لئے پسند نہیں آئی کیونکہ میں بورڈ کا ملازم ہوں‘‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ پاکستان میں کرکٹ کے مستقبل کی بات ہے، بطور پاکستانی اور سابق کپتان وہ اتنے اہم مسئلے پر خاموش نہیں رہ سکتے۔

راشد لطیف کے بقول لوگ سچ جاننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بغیر لگی لپٹی اپنا موقف اور حقیقت بیان کی ہے۔ ساتھ ہی راشد لطیف نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اب وہ افغان کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کریں گے،’’ افغان کرکٹ بورڈ نے مجھے ہیڈ کوچ بنانے کی پیشکش کی تھی، جو میں نے قبول کر لی ہے کیونکہ میں کرکٹ کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہوں۔‘‘

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM