1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

سٹیو جابز، ’سرجری سے بچتے رہے‘

کمپیوٹرز اور آئی فون تیار کرنے والے دنيا کے معروف ادارے اپيل کے شريک بانی سٹيو جابز کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انہوں نے اپنے کینسر علاج کے سلسلے میں سرجری کی بجائے متبادل طریقے اپنائے رکھے۔

default

پانچ اکتوبر کو صرف 56 برس کی عمر ميں لبلبے کے کينسر کے باعث انتقال کر جانے والے جابز نے ميکنٹوش کمپيوٹرز، آئی پوڈ، آئی فون اور آئی پيڈ کے ذريعے لاکھوں افراد کی روزمرہ زندگی ميں ايک انقلاب برپا کيا تھا۔ ان کے انتقال پر عالمی رہنماؤں، کاروباری شخصیات اور پوری دنيا سے جابز کے مداحوں نے انہيں خراج عقیدت پيش کيا۔ جابز نے اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں اور خيالات کے حوالے سے ہمیشہ بہت کم ہی ظاہر کیا تاہم انہوں نے ایک امریکی مصنف سے اپنی سوانح عمری تحرير کرنے کو کہا تھا تا کہ ان کے بچےان کے بارے میں جان پائیں۔

سوانح نگار Waltter Isaacson نے اس حوالے سے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ايس کو ساٹھ منٹ دورانيہ کے ايک انٹرويو ميں بتايا کہ اپيل کے شريک بانی سٹيو جابز نے نو ماہ تک ممکنہ طور پر کينسر کے خلاف زندگی بچانے والی سرجری سے انکار کیا۔ انہوں نے ايسا اپنے خاندان کے شديد احتجاج اور سرجری کی بجائے متبادل ادويات استعمال کرنے کے فيصلے کی وجہ سے کيا۔

Steve Jobs Flash-Galerie

سٹیو جابز کینسر کے مرض میں مبتلا تھے

سوانح نگار کا یہ انٹرويو اتوار کو نشر ہوا، جس ميں انہوں نے بتايا کہ جب جابز نے بعد ميں سرجری کرانے کا فيصلہ کيا، تواس وقت تک يہ مرض نا قابل علاج ہو چکا تھا۔ ان کا مزيد یہ بھی کہنا تھا کہ جابز نے ابتدا ميں اس بيماری کو سنجيدگی سے نہيں ليا اور انہوں نے ہر ايک کو بتايا کہ وہ تندرست ہیں ليکن درحقيقت ان کے خفيہ علاج کا سلسلہ جاری رہا۔ Isaacson نے ان معلومات کی تصديق کی کہ جابز نے کينسر کے علاج کے ليے غير روايتی طريقے استعمال کيے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ پيشہ ورانہ علاج کرواتے، تو سست رفتاری سے بڑھتے ہوئے اس کينسر کا خاتمہ ممکن تھا۔ Isaacson نے مزيد بتايا کہ جابز نے بعد ميں سرجری نہ کرانے کے فيصلے پر افسوس کا اظہار کيا تھا کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ اس طرح ان کی زندگی بچ سکتی تھی۔ اس امریکی سوانح نگار کا کہنا تھا کہ جابز غذا کے استعمال سے کينسر کا علاج کرتے رہے اور اس کے علاوہ روحانی علوم کے ماہروں کے پاس بھی جاتے رہے تاکہ سرجری سے بچا جا سکے۔

جابز نے اگست دو ہزار چار ميں اعلان کيا تھا کہ انہوں نے لبلبے سے کينسر ٹيومر ختم کرنے کے ليے سرجری کرائی ہے۔ بعد ميں انہون نے ہارمونز کے عدم توازن کی بيماری ميں مبتلا ہونے کے بارے ميں بتايا تھا اور دو ہزار نو ميں یہ انکشاف ہوا کہ انہوں نے جگر کی پیوندکاری کرائی ہے۔
اس کتاب نے جابز کے ديرينہ ساتھی اور اپيل کے سابق بورڈ ممبر جو بعد ميں گوگل کے سی ای او بنے، ايرک شمٹ کے ساتھ تعلقات پر بھی نئی روشنی ڈالی جس کے مطابق جب گوگل نے سمارٹ فون انڈسٹری ميں اپيل کے مدمقابل اينڈرائيڈ موبائل سافٹ وئير متعارف کرايا، تو جابز کا موقف تھا کہ وہ اس سافٹ وئيرکو تباہ کر دیں گے کيونکہ ان کے مطابق یہ ايک چوری شدہ چيز تھی۔
Isaacson کے مطابق جاب‍ز نے بدھ مت کا کئی سال مطالعہ کيا اور اس سلسلے ميں انہوں نے روحانی رہنمائی کے ليے بھارت کا سفر بھی کيا۔ جابز بيٹلز کو اپنا پسنديدہ ميوزک بينڈ شمار کرتے تھے۔
جابز کی زندگی کے مختلف گوشوں کو نماياں کرنے کے حوالے سے لکھی جانی والی یہ کتاب چوبيس اکتوبر سے دستياب ہو گی۔

رپورٹ: شاہد خان

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM