1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’سٹریٹ کرائمز کو روکنے کے لیے لاہور میں ڈولفن آ گئے‘

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں سٹریٹ کرائمز میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، پنجاب حکومت نے جرائم کو روکنے کے لیے ایک نئی اور خصوصی پولیس فورس قائم کی ہے۔

ڈی ڈبلیو سے خصوصی انٹرویو میں پنجاب کی کابینہ کمیٹی کے سینیئر رکن اور سابق انسپکٹر جنرل پولیس رانا مقبول احمد نے بتایا کہ ڈولفن سکواڈ سوموار سے لاہور کے گلی کوچوں میں اپنا کام شروع کر رہی ہے۔ ان کے بقول اس فورس کو خاص طور پر سٹریٹ کرائمز کے خاتمے کے لیے تیار کیا گیا ہے اور پولیس کی بعض دیگر فورسز کی طرح اس سکواڈ کو وی آئی پی ڈیوٹی، شخصیات کی حفاظت، جلسے اور جلوسوں کے موقع پر امن و امان کی بحالی سمیت کسی بھی دوسرے کام کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ اس پولیس فورس کا ریسپانس ٹائم پانچ منٹ کا ہو گا اور بعد ازاں اس کے لیے ایک خصوصی ہیلپ لائن بھی جاری کی جائے گی۔

Pakistan DolphinsKraft

ڈولفن منصوبے کے لیے 600 موٹر سائیکلوں میں سے 300 خریدی جا چکی ہیں

ترکی کے تعاون سے تیار کیے جانے والے ڈولفن سکواڈ کے بارے میں جب ان سے پوچھا گیا کہ اس فورس کا نام ڈولفن کیوں رکھا گیا ہے؟ حالانکہ لاہور نہ تو سمندر کے قریب واقع ہے اور نہ ہی اس کا ڈولفن سے کوئی تعلق بنتا ہے۔ اس پر رانا مقبول احمد کا کہنا تھا کہ ڈولفن موسٹ ہیومن فرینڈلی جانور ہے۔ اس فورس کا نام ڈولفن رکھنے کا مقصد شہریوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ عام روایتی فورسز کے برعکس اس سکواڈ کا عام شہریوں سے برتاؤ دوستانہ ہو گا اور انہیں اس سے خوف محسوس نہیں ہوگا۔ ’’میرے خیال میں اس سے پولیس کا امیج بھی بہتر ہو گا اور ہمیں پولیس کلچر بدلنے میں بھی مدد مل سکے گی۔‘‘

پولیس کے امور کا طویل تجربہ رکھنے والے رانا مقبول احمد کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس ڈولفن سکواڈ کے لیے پولیس فورس میں سے کوئی 700 اہلکار منتخب کیے گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ڈولفن سکواڈ میں شامل کسی اہلکار کا قد پانچ فٹ نو انچ سے کم نہیں ہے۔ اس فورس کو ترک ماہرین کی زیر نگرانی خصوصی تربیت دی گئی ہے۔

لاہور کے علاقوں کو 175 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں اس سکواڈ کے 700 افراد 75 حصوں میں ڈیوٹی دیں گے۔ بعد میں لاہور میں تعینات اس سکواڈ کے اہلکاروں کی تعداد 2600 تک بڑھا دی جائے گی۔ رانا مقبول کے بقول’’ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو پھر ڈولفن فورس کا دائرہ پنجاب کے تمام بڑے شہروں تک پھیلا دیا جائے گا۔‘‘

ڈولفن منصوبے کے لیے 13 ارب روپے منظور کیے جا چکے ہیں اور اس میں سے اب تک ایک ارب روپے خرچ بھی کیے جا چکے ہیں۔ ڈولفن منصوبے کے لیے 600 موٹر سائیکلوں میں سے 300 موٹر سائیکلیں خریدی جا چکی ہیں۔ تیرہ لاکھ روپے مالیت کی اس 500 سی سی موٹر سائیکل کو اس فورس کے لیے خاص طور تیار کروایا گیا ہے۔ اس فورس میں کام کرنے والے پولیس اہلکاروں کو بیس فیصد زیادہ تنخواہ ملے گی۔

Pakistan Rana Maqbool Ahmad

اس فورس کو خاص طور پر سٹریٹ کرائمز کے خاتمے کے لیے تیار کیا گیا ہے، رانا مقبول احمد

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے پنجاب پولیس کے علاوہ صوبے میں ایلیٹ فورس، انسداد دہشت گردی فورس، پنجاب ھائی وے پٹرولنگ، محافظ فورس، سپیشل پروٹیکشن یونٹ اور مجاہد سکواڈ سمیت بہت سی فورسز کام کر رہی ہیں۔ کیا بلند بانگ دعوؤں سے شروع کی جانے والی یہ نئی ڈولفن فورس عوام کو نتائج دے سکے گی؟ اس سوال کے جواب میں رانا مقبول کہتے ہیں کہ اصل اہمیت فورس کی نہیں بلکہ اس کی نگرانی کرنے والے لوگوں کی ہوتی ہے۔’’ اگر نگرانی موثر ہی رہی اور اس فورس کو اپ ڈیٹ کیا جاتا رہا تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ یہ فورس ڈیلیور نہ کر سکے۔‘‘

ڈولفن سکواڈ کے سربراہ ایس پی سید کرار حسین نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب حکومت نے پولیس کے 25 اہلکاروں اور افسروں کو ڈولفن فورس پراجیکٹ کے حوالے سے خصوصی تربیت کے لیے ترکی بھیجا تھا۔ ترکی سے تربیت پانے والے ماسٹر ٹرینرز نے ابھی حال ہی میں پولیس ٹریننگ کالج فاروق آباد میں 700 اہلکاروں کو چار ماہ کی تربیت دی ہے۔ اس فورس میں ایسے پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جو اقوام متحدہ کے امن مشنز میں بھی فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔’’تربیت پانے والے یہ اہلکار ایک ہفتے کی چھٹی پر اپنے گھروں کو گئے ہوئے ہیں اور توقع ہے کہ ڈولفن سکواڈ کے یہ اہلکار آئندہ سوموار کے روز سے لاہور کی سڑکوں اور گلیوں میں ڈیوٹی دینا شروع کر دیں گے۔‘‘

Pakistan DolphinsKraft

ڈولفن سکواڈ میں کسی اہلکار کا قد پانچ فٹ نو انچ سے کم نہیں ہے

کرار حسین کے مطابق ڈولفن پراجیکٹ کے تحت دو موٹر سائیکلوں پر سوار 4 پولیس اہلکار مل کر ایک علاقے میں گشت کریں گے۔ خاص طور پر ڈیزائن کی گئی واٹر پروف یونیفارم میں ملبوس ان اہلکاروں کے پاس اینڈرائڈ فون ہوں گے اور ان کی کیپ میں لگے ہوئے آلات کی وجہ سے انہیں بلیو ٹوتھ اور وائی فائی کی سہولت میسر ہو گی۔ یہ اہلکار بینکوں اور تعلیمی اداروں کی نگرانی کے علاوہ مشکوک گاڑیوں اور مشکوک افراد کی نقل و حرکت پر بھی نگاہ رکھیں گے۔ ان کے پاس چھوٹے ہتھیار بھی ہوں گے اور حادثے سے بچاؤ والے آلات کی وجہ سے یہ مجرموں کا موثر طریقے سے پیچھا بھی کر سکیں گے۔ ڈولفن فورس کے ان اہلکاروں کی اپنی نقل و حرکت کو پولیس کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے ذریعے مانیٹر کیا جائے گا۔

کیا اس فورس کے قیام سے پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں امن و امان کی بہتری کی کوئی ضمانت دی جا سکتی ہے۔ بہت سے دانشور اور ماہرین اس سوال کا جواب ہاں میں دینے سے کترا رہے ہیں۔ لیکن رانا مقبول احمد جو پنجاب میں قائم کی جانے والی سیف سٹی اتھارٹی کے بھی رکن ہیں، کہتے ہیں کہ حکومت اس سلسلے میں کافی کوششیں کر رہی ہے۔ ان کے بقول وائرلیس، کیمروں اور فون سمیت ڈیجیٹل طریقوں سے شہر کوکمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے ذریعے محفوظ بنانے کے ایک منصوبے پر بھی کا ہو رہا ہے۔ سیف سٹی منصوبے کے تحت لاہور، گوجرانوالہ، راولپنڈی، ملتان اور فیصل آباد میں شہریوں کی حفاظت کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔

ایک ایسا معاشرہ جہاں آبادی کا بڑا حصہ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کر رہا ہو، روزگار کے مواقع محدود ہوں اور معاشرے میں لوگوں کے تناؤ میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہو کیا وہاں ان انتظامی امور کے ذریعے پائیدار امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ رانا مقبول اعتراف کرتے ہیں کہ امن کے دیرپا قیام کے لیے جرائم کا باعث بننے والے عوامل کا خاتمہ بھی بہت ضروری ہے۔