1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سٹارت ٹو ایٹمی معاہدے پر دستخط آج پراگ میں

امریکی اور روسی صدور آج یورپی ملک چیک جمہوریہ کے دارالحکومت پراگ میں جوہری ہتھیاروں میں تخفیف کے نئے معاہدے سٹارٹ ٹو کی دستاویز پر دستخط کر رہے ہیں۔ اس معاہدے کو عالمی سطح پر انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے۔

default

امریکہ کے ساتھ جوہری اسلحے میں تخفیف کے اس نئے معاہدے کے حوالے سے روسی صدر دیمیتری میدویدیف کا کہنا ہے کہ جوہری ہتھیاروں میں کمی کے حوالے سے دنیا اس پر انحصار کر سکے گی۔ میدویدیف معاہدے کی دستاویز پر دستخطوں کی تقریب کے لئے چیک جمہوریہ پہنچ چکے ہیں۔ بدھ کو میدویدیف نے چیک جمہوریہ کے صدر واسلاف کلاؤس سے بھی ملاقات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے سلسلے میں یہ نیا معاہدہ ایک کلید کی حثیت رکھے گا۔ روسی صدر بدھ کو چیک جمہوریہ کے ہمسایہ ملک سلوواکیہ کے دارالحکومت براتسلاوا میں دوسری عالمی جنگ کے آخری دنوں میں اس شہر کی آزادی کی تقریبات میں شرکت کرنے کے بعد پراگ پہنچے تھے۔

جوہری ہتھیاروں میں کمی کی نئی دستاویز پر امریکی

Protest vor EU-USA-Gipfel in Prag

پراگ قلعہ جہاں سٹارٹ ٹو معاہدے پر دستخط کئے جائیں گے۔ فائل فوٹو

اور روسی صدور جمعرات کی سہ پہر دستخط کریں گے۔ تقریب کا مقام قلعہ پراگ ہے جو چیک جمہوریہ کے صدر کی رہائش گاہ بھی ہے۔ روسی صدر دستخطوں سے قبل امریکی صدر اوباما سے ملاقات بھی کریں گے۔ تقریب کے لئے پراگ کا انتخاب اس لئے بھی کیا گیا کہ یہیں صدر اوباما نے زمین کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی اپنی کوششیں شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اوباما اس تقریب میں شرکت کے لئے جمعرات کی صبح پراگ پہنچیں گے۔

جوہری ہتھیاروں میں تخفیف کا یہ نیا معاہدہ سن 1991 میں طے پانے والے اس سٹارٹ ون معاہدے کی جگہ لے گا جو گزشتہ سال دسمبر میں اپنی مدت پوری کر چکا ہے۔ نئے معاہدے پر دونوں ملکوں کے وفود نے کئی مہینوں بات چیت جاری رکھی ۔ امریکی اور روسی وزرائے خارجہ اور دونوں ملکوں کے صدور بھی گاہے گاہے اس معاہدے کی راہ میں حائل پیچیدگیوں پر گفتگو کرتے رہے ہیں۔

Symbolbild USA Russland

امریکی روسی جھنڈوں کا ملاپ

معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کے جوہری ہتھیاروں میں کم از کم تیس فیصد کی کمی کر دی جائے گی اور دونوں ملک اپنے اپنے پاس 1550جوہری وار ہیڈ رکھ سکیں گے۔ یہ حد دونوں ملکوں پر لاگو ہو گی۔

جمعرات کوامریکی صدر باراک اوباما جوہری ہتھیاروں میں تخفیف کے نئے معاہدے پر دستخط کے لئے جب پراگ میں موجود ہوں گے، تو ان کو کم از کم گیارہ ملکوں کے وفود سے ملنے کا موقع بھی ملے گا۔ یہ وفود زیادہ تر مشرقی یورپی ملکوں سے پراگ پہنچے ہیں۔ گیارہ اعلیٰ سطحی وفود میں روسی صدر دیمیتری میدویدیف کے علاوہ ہنگری کے وزیر اعظم گورڈن بوئےنوئے، پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونالڈ ٹسک اور رومانیہ کے صدر تاریان باسیچو بھی شامل ہوں گے۔ امریکی صدر سے ملاقات کے لئے سلوواکیہ، بلغاریہ، سلووینیہ، کروشیا اور بالٹک کی ریاستوں کے وفود بھی پراگ پہنچ رہے ہیں۔ امریکی صدر جمعہ کی سہ پہر واپس امریکہ روانہ ہو جائیں گے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت:  مقبول ملک

DW.COM