1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سُوچی روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کی مذمت کریں، ملالہ

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے مبینہ قتل عام اور مظالم کے حوالے سے سوشل میڈیا میں گرما گرم بحث اور تبصرے ہو رہے ہیں۔ ملالہ یوسف زئی نے بھی اپنے حالیہ ٹویٹ میں روہنگیا مسلمانوں پر مبینہ مظالم کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

USA Malala Yousafzai in New York (Reuters/S. Keith)

اگر میانمار روہنگیا مسلمانوں کا گھر نہیں ہے تو پھر نسلوں سے یہ کہاں رہ رہے تھے؟ ملالہ یوسف زئی

روہنگیا مسلمانوں پر میانمار حکومت کے مبینہ مظالم پر جیسے جیسے عالمی میڈیا کی رپورٹنگ بڑھتی جا رہی ہے، سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر بھی اس اہم موضوع پر تبصروں اور تنقیدی پیغامات کا سلسلہ زور پکڑ رہا ہے۔ ملالہ یوسف زئی نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں لکھا ہے،’’میں جب بھی خبریں دیکھتی ہوں میرا دل روہنگیا کے مسلمانو‌ں کے آلام پر دکھتا ہے۔ میں اس ضمن میں درج ذیل اقدامات کا مطالبہ کرتی ہوں۔

1- اس تشدد کو بند کیا جائے۔ آج ہم میانمار سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ہلاک کیے گئے بچوں کی تصاویر دیکھ رہے ہیں۔ ان بچوں نے کسی پر حملہ نہیں کیا تھا پھر بھی ان کے گھر جلا دیے گئے۔

2- اگر میانمار روہنگیا مسلمانوں کا گھر نہیں ہے تو پھر نسلوں سے یہ کہاں رہ رہے تھے؟ تو پھر ان کا گھر کہاں ہے؟

3- میں مطالبہ کرتی ہوں کہ میرے ملک پاکستان سمیت دیگر ممالک بھی بنگلہ دیش کی طرح تشدد اور دہشت سے فرار ہونے والے روہنگیا خاندانوں کو پناہ، خوراک اور تعلیم تک رسائی دیں۔

گزشتہ چند سالوں سے میں نے ایسے تمام الم ناک اور شرم ناک مظالم کی مذمت کی ہے۔ میں اب بھی اپنی نوبل پرائز یافتہ ساتھی آنگ ساں سوچی کی جانب سے ایسی ہی مذمت کا انتظار کر رہی ہوں۔ یہی انتظار تمام دنیا اور روہنگیا مسلمان بھی کر رہے ہیں۔‘‘

 خیال رہے کہ میانمار کی نوبل پرائز یافتہ رہنما آنگ سان سوچی نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے الزام کو مسترد کیا ہے۔ علاوہ ازیں دو روز قبل آنگ سان سُوچی نے اقوام متحدہ کی حقوقِ انسانی کونسل کے اُس فیصلے کو رَد کر دیا تھا، جس میں میانمار کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے روہنگیا مسلمان اقلیت کے خلاف جرائم کے الزامات کی تحقیقات کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ سوچی کے اس رویے پر بھی کڑی تنقید کی جا رہی ہے اور اُن سے سوشل میڈیا پیغامات میں متعدد صارفین نے امن کا نوبل پرائز لوٹانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

DW.COM