1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

سينتيس ہزار افغان خاندان اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق سن 2016 میں اب تک افغانستان سے 37 ہزار خاندان جنگ زدہ حالات کے باعث اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ہر خاندان سے اوسطاً سات افراد کو اپنا گھر چھوڑنا پڑا ہے یعنی کہ اس سال کے آغاز سے اب تک 2 لاکھ 60 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ گزشتہ برس 384,480 افراد نے افغانستان چھوڑ کر دوسرے ممالک کا رخ کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق افغانستان میں ایسے افراد کی تعداد 12 لاکھ سے زیادہ ہے جو تنازعات اور بد امنی کے باعث اندرون ملک نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

اس شورش زدہ ملک میں عسکریت پسند بھی دوبارہ مضبوط ہوتے نظر آرہے ہیں، جس سے امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی ہے۔ اس حوالے سے ایک اہم پہلو افغانستان میں انسانوں کی اسمگلنگ بھی ہے۔ کئی افغان شہری غیر قانونی طریقوں سے یورپ پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ افغانستان کے شہریوں کے پاس بہت محدود وسائل ہیں۔ ان کے پاس ترقی اور روزگار کے مواقع نہیں ہیں اور کچھ علاقوں میں سکیورٹی کی صورتحال نہایت خراب ہے۔ سول سوسائٹی کے فعال ارکان اور صحافیوں کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ اسی لیے ایک عام تاثر یہی ہے کہ افغانستان سے لوگ اپنے لیے نہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کی خاطر کوئی بھی خطرہ مول لے کر یورپ یا دیگر ممالک کی طرف جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس افغانستان میں مسلح تنازعات کے باعث ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا تھا۔

DW.COM