سو سے زائد مہاجرین کو ریسکیو کر لیا گیا، یونان حکام | مہاجرین کا بحران | DW | 05.09.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

سو سے زائد مہاجرین کو ریسکیو کر لیا گیا، یونان حکام

یونانی حکام کے مطابق بحیرہء روم سے 103 تارکین وطن کو ریسکیو کیا گیا ہے اور انہیں ملک کے جنوبی جزیرے کریتے پر پہنچایا جا چکا ہے۔

یونانی کوسٹ گارڈ کی جانب سے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک شکستہ کشتی میں سوار یہ افراد سمندری موجوں سے نبرد آزما تھے کہ قریب سے گزرنے والے ایک کارگو جہاز نے ان کی نشان دہی کی۔ اس سے قبل اس کشتی کی جانب سے حکام کو پریشانی کے سگنل بھی ارسال کیے گئے تھے، مگر کشتی کے درست مقام کا اندازہ نہیں ہو رہا تھا۔

ڈبلن معاہدے سے یونان و اٹلی کے لیے مشکلات کیوں بڑھ رہی ہیں؟

یونان میں مہاجرین کے لیے ’کوالیفیکیشن پاسپورٹ‘

ویڈیو دیکھیے 01:26

مزید انتظار نہیں!

فی الحال یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ اس کشتی نے اپنے سفر کا آغاز کہاں سے کیا اور یہ اصل میں کہاں پہنچنا چاہتی تھی۔

اس سے قبل گزشتہ روز یونانی کوسٹ گارڈ نے چھوٹی کشتیوں میں سوار 107 تارکین وطن کو مشرقی جزیرے لیسبوس کے قریب سے ریسکیو کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے مطابق رواں برس اب تک 15 ہزار دو سو تیس تارکین وطن سمندر کے راستے یونان پہنچ چکے ہیں۔

سن دو ہزار پندرہ میں مہاجرین کے بحران کے عروج کے وقت کے مقابلے میں یہ تعداد اب بھی نہایت کم ہے۔

تاہم اب بھی ہزاروں مہاجرین یونان میں موجود ہیں اور  درجنوں اس امید کے ساتھ یونان کا رخ کرتے نظر آتے ہیں کہ شاید انہیں مغربی یورپ جانے کا کوئی راستہ مل جائے۔

یہ بات اہم ہے کہ سن 2015ء میں یونان ہی کے راستے سے قریب ایک ملین مہاجرین نے مغربی اور شمالی یورپ کا رخ کیا تھا۔

بلقان ریاستوں کی جانب سے اپنی اپنی قومی سرحدوں کی بندش اور یورپی یونین اور ترکی کے مابین طے پانے والے معاہدے کے بعد ترکی سے بحیرہء ایجیئن کے راستے یورپ پہنچنے والے افراد کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

تاہم اب شمالی افریقہ سے تارکین وطن بحیرہء روم عبور کر کے اٹلی اور اسپین کا رخ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic