1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سو ارب ڈالر سے زائد مالیت کا ٹاٹا گروپ دوبارہ رتن ٹاٹا کے ہاتھ میں

سو ارب ڈالر سے زائد مالیت کے اثاثوں والے بھارت کے سب سے بڑے صنعتی گروپ ٹاٹا کا انتظام دوبارہ رتن ٹاٹا کے ہاتھ میں آ گیا ہے۔ سو سے زائد ملکوں میں اس بزنس گروپ کے کاروباری اور پیداواری اداروں کی تعداد بھی سو سے زائد ہے۔

Ratan Tata Präsident des TATA Konzerns (AP)

رتن ٹاٹا پہلے بھی 1991ء سے لے کر 2012ء تک اس گروپ کے چیئرمین رہ چکے ہیں

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے منگل پچیس اکتوبر کو ملنے والی جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق ٹاٹا گروپ کی ملکیت کئی طرح کے 100 سے زائد صنعتی پیداواری اور کاروباری اداروں کا انتظام ٹاٹا سنز نامی ہولڈنگ کمپنی کے پاس ہے۔

اب تک ٹاٹا سنز کے چیئرمین سائرس مستری تھے، جن کی اس عہدے سے کل پیر چوبیس اکتوبر کے روز اچانک علیحدگی کے بعد رتن ٹاٹا کو فی الحال عبوری طور پر لیکن دوبارہ اس گروپ کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا ہے۔

رتن ٹاٹا جن کی عمر اس وقت 78 برس ہے، ماضی میں بھی 21 برس تک اس گروپ کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ 2012ء میں رتن ٹاٹا کی جگہ سائرس مستری اس بزنس گروپ کے سربراہ بن گئے تھے۔ رتن ٹاٹا نے گروپ کے عبوری چیئرمین کے طور پر اپنی ذے داریاں سنبھالنے کے اگلے ہی دن منگل کے روز کہا، ’’ادارے ان افراد سے بھی بالاتر اور زیادہ اہم ہوتے ہیں، جو ان اداروں کی قیادت کرتے ہیں۔‘‘

ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ رتن ٹاٹا نے بھارت کے تجارتی مرکز ممبئی میں قائم اس گروپ کے ہیڈ کوارٹرز میں مختلف ذیلی اداروں اور کمپنیوں کے سربراہان کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نئی قیادت کے سامنے آنے کے بعد ہر طرح کے کاروباری خدشات کی تردید کرتے ہوئے کہا، ’’ٹاٹا گروپ کے اداروں کو مارکیٹ میں اپنی سخت تر مقابلے کی حیثیت کو اچھی طرح سمجھنا ہو گا۔ اس لیے ٹاٹا کو زیادہ توجہ اپنے ماضی کے بجائے مستقبل پر دینا ہو گی تاکہ اپنے ہی ماضی سے موازنہ کرنے اور دوسروں کی تقلید کرنے کے بجائے خود اپنی قائدانہ حیثیت کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔‘‘

Indien Tata Auto behält den Namen Zica (Reuters/A. Mukherjee)

ٹاٹا گروپ کی ٹاٹا موٹرز برطانوی کار ساز اداروں ’جیگوار‘ اور ’لینڈ روور‘ کی بھی مالک ہے

سائرس مستری کو ٹاٹا گروپ کے چیئرمین کے طور پر ہٹانے جانے کے بعد رتن ٹاٹا خود بھی اس پانچ رکنی پینل میں شامل ہیں، جسے اگلے چار ماہ کے دوران نئے گروپ چیئرمین کا انتخاب کرنا ہے۔ مستری کا ان کے عہدے سے علیحدہ ہونا اس لیے حیران کن تھا کہ انہوں نے ابھی گزشتہ مہینے ہی ٹاٹا گروپ کے لیے اپنی طویل المدتی پالیسی کی تفصیلات پیش کی تھیں۔ باقاعدہ طور پر اس گروپ نے مستری کو اپنے چیئرمین کے عہدے سے ہٹانے کی کوئی وجوہات بیان نہیں کیں۔

ٹاٹا گروپ کی بنیاد 1868ء میں برطانوی نوآبادیاتی دور میں پارسی صنعت کار جمشید جی ٹاٹا نے رکھی تھی۔ اس وقت یہ گروپ فولاد سازی سے لے کر نمک تک کی صنعت میں بیسیوں پیداواری اور کاروباری اداروں کا مالک ہے، جن میں کاریں تیار کرنے والی بھارتی کمپنی ٹاٹا موٹرز بھی شامل ہے۔

اس وقت قریب ڈیڑھ سو برس پرانا یہ کاروباری گروپ چھ براعظموں کے 100 سے زائد ملکوں میں کاروبار کرتا ہے، جہاں اس کی 100 سے زائد اپنی بہت بڑی بڑی کمپنیاں ہیں۔ مجموعی طور پر ٹاٹا گروپ کے دنیا بھر میں ملازمین کی تعداد چھ لاکھ سے زائد ہے اور مالی سال دو ہزار پندرہ سولہ میں اس گروپ کو 103 ارب ڈالر سے زائد کی آمدنی ہوئی تھی۔

ٹاٹا موٹرز اس گروپ کی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے، جو برطانوی کار ساز اداروں ’جیگوار‘ اور ’لینڈ روور‘ کی بھی مالک ہے۔

DW.COM