1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سویڈن یورپی یونین کا نیا صدر ملک

اگلے چھ ماہ تک کے لئے یورپی یونین کی صدارت سویڈن کے پاس ہو گی ۔ سویڈن کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ انہیں اگلی ششماہی کےدورا ن کون سی منزلیں طے کرنی ہیں، لیکن ساتھ ہی مسائل کا ایک انبار بھی ان کے سامنے کھڑا ہے۔

default

یورپی یونین کی صدارت ہر چھ ماہ کے بعد یونین کے دوسرے رکن ملک کو منتقل کی جاتی ہے

Halbmast Schwedisches Außenministerium

سویڈن کے لیے یورپی یونین کی صدارت آسان ثابت نہ ہوگی

سویڈن کو ایک کڑے وقت میں یورپی یونین کا سربراہ بننا پڑ رہا ہے۔ یورپی یونین کے لزبن معاہدےکی منظوری کا مسئلہ ، یورپی کمیشن کی تبدیلی، یونین کے رکن ممالک کے مابین یورپی پارلیان کے اہم عہدوں کے لئے کھینچا تانی اور ساتھ ہی عالمی مالیاتی بحران ، جس کی وجہ سے موسم خزاں اور سرما تک بے روزگاری میں زبردست اضافے کا خدشہ ہے، اور رواں سال دسمبر میں کوپن ہیگن میں ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس۔

سویڈن میں یورپی امور کی وزیر سے سیلیا مالم سٹورم کے مطابق اقتصادی اور ماحولیاتی مسائل ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔ ان کا اس حوال سے کہنا ہے: ہمارے لئے مالیاتی بحران اور زمین کے درجہِ حرارت میں اضافہ دو اہم مسائل ہیں۔ ہماری پوری کوشش ہو گی کہ دنیا کوپن ہیگن میں ہونے والی کانفرنس میں ضرر رساں گیسوں کے اخراج میں کمی کے حوالے کسی معاہدے پر متفق ہو جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پورپ یک زبان ہو کر ایک ساتھ کھڑا ہو۔

Jahresrückblick 2008 International Juni Irland EU Volksabstimmung zu Lissabon Nein Graffiti

یونین کے اصلاحات کے لزبن معاہدے کے حوالے سے سویڈن کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

سویڈن کے قدامت پسند وزیراعظم فریڈرک رائن فیلڈ کو ان کے ملک میں بہبود کے نظام میں اصلاحات کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ رائن فیلڈ یورپ میں بچت کے حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں۔ رواں سال مارچ میں جب کئی پورپی ممالک نے بڑی مالیت کے امدادی پیکج متعارف کرائے تھے تو رائن فیلڈ وہ واحد سربراہ حکومت تھے جنہوں نے اس موقع پر احتیاط سے کام لینے کے لئے کہا تھا۔ ان کا کہنا ہے: مسئلہ یہ ہے کہ یورپ ایک ایسے مقام پر ہے کہ جہاں وہ سب کچھ کیا جا چکا ہے ، جوکیا جا سکتا تھا۔ بہت سے یورپی ملکوں کو اس وقت بجٹ میں شدید خسارے کا سامنا ہے اور اس خسارے کو کم کرنے کی کوششوں کے نتیجے میں نئے مسائل نے جنم لیا ہے جیسا کہ سود کی بلند شرح اور ٹیکسوں میں اضافہ۔

پندرہ برس قبل پورپی یونین میں شمولیت کے حوالے سے کرائے جانے والے ریفرنڈم میں سویڈش باشندوں میں کافی حد تک حمایت پائی جاتی تھی۔ لیکن 2003ء میں کرائی جانے والی رائے شماری میں اس کے خلاف فیصلہ دینے والے معمولی سی اکثریت سے کامیاب ہو گئے۔ سویڈش عوام کی ایک بڑی تعداد کو خدشہ ہے کہ یورپی یونین میں ان کے چھوٹے سے ملک کی آواز نہیں سنی جائے گی۔ بہرحال ابھی سے یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ سویڈن کے لئے اگلے چھ ماہ آسان نہیں ہوں گے۔ لیکن جوکچھ بھی ہو سویڈن کے بارے میں تاثر موجود ہے کہ وہ ہر چیلنج کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔