1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سویڈن: پارلیمانی انتخابات میں حکمران پارٹی کامیاب

ووٹنگ کے بعد جو اعداد و شمار کی روشنی میں دائیں بازو کا اعتدال پسند حکمران اتحاد ایک بار پھر حکومت سازی کے قابل ہے۔ اس کے علاوہ انتہائی قدامت پسند دائیں بازو کی جماعت پہلی بار پارلیمنٹ پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔

default

وزیر اعظم فریڈرک رائن فیلٹ

سویڈن کے وزیر اعظم فریڈرک رائن فیلٹ کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے کہ وہ اپنے ملک میں مسلسل دوسری بار الیکشن جیتنے کے بعد حکومت سازی کر سکیں گے۔ حکام کے مطابق وزیر اعظم کو تین سو انچاس کے ایوان میں ایک نشست سے اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔ پہلے سویڈن کے پبلک ٹیلی وژن کا کہنا تھا کہ رائن فیلٹ کے اتحاد کو پچاس فیصد سے کم ووٹ حاصل ہوئے ہیں لیکن اب یہ صورت حال تبدیل ہو گئی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ حکمران اتحاد کو پارلیمنٹ میں حکومت قائم کرنے کے لئے مطلوبہ نشستوں سے دوچار سیٹیں کم حاصل ہوں گی۔

اتوار کے انتخابات میں دائیں بازو کی انتہائی قدامت پسند ڈیموکریٹک پارٹی کو مطلوبہ ووٹ حاصل ہو گئے ہیں اور وہ پہلی بار پارلیمنٹ میں بیٹھ سکے گی۔

FLASH-GALERIE Reichstagswahlen in Schweden Plakat Ministerpräsident Fredrik Reinfeldt

انتخابی پوسٹرز

سویڈن کے دستور کے مطابق کسی بھی پارٹی کو پارلیمنٹ میں جگہ حاصل کرنے کے لئے کم از کم چار فیصد مقبول ووٹ حاصل کرنے ضروری ہوتے ہیں۔ سویڈن میں متناسب نمائندگی کا قانون لاگو ہے۔ ماہرین کے خیال میں کم نشستوں کے باوجود قدامت پسند جماعت کی اہمیت خاصی ہو گی۔ یہ بھی اہم ہے کہ رائن فیلٹ حکومت بنانے کے لئے ساتھی جماعت کے طور پر گرین پارٹی کو ترجیح دیں گے کیونکہ انتخابی مہم میں انہوں نے انتہائی قدامت پسندوں کے ساتھ حکومت قائم کرنے کو خارج از امکان قرار دیا تھا۔

سویڈن کے پارلیمانی الیکشن میں پینتالیس سالہ رائن فیلٹ کی کامیابی نے یقینی طور پر اپوزیشن کی بڑی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے ستر سالہ لیڈر ژان ایلیاسون کی سیاسی بساط کو لپیٹ دیا ہے۔ سوشل ڈیموکریٹ لیڈر ایلیاسون اپنے ملک کے وزیر خارجہ رہ چکے ہیں۔ ان کی جماعت کو تیس فیصد سے کچھ اوپر ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ یہ سابقہ الیکشن سے بھی کم ووٹ ہیں۔ سن 2008 کے انتخابات میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے پینتیس فیصد سے زائد ووٹ حاصل کئے تھے۔

سویڈن کے الیکشن کمیشن کے حکام کے مطابق اتوار کے الیکشن میں ووٹروں کی شرکت کی رفتار ابتدا میں انتہائی سست تھی لیکن بعد میں تیز ہو گئی اور ڈالے گئے ووٹوں کا تناسب اسی فیصد بتایا گیا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس