1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سویڈن، ٹرک حملے کے ہلاک شدگان کی یاد میں خاموشی

سویڈن میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں کے لیے سٹاک ہوم  میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ اس موقع پر موجود ہزاروں سوگوار افراد نے ہلاک شدگان کو یاد کیا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا ہے کہ دس اپریل بروز پیر سویڈن کے وزیراعظم  نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک کبھی بھی دہشت گردی کے آگے نہیں جھکے گا۔ گزشتہ جمعےکو سٹاک ہوم میں  ٹرک حملے میں چار  شہری ہلاک جبکہ  پندرہ افراد زخمی ہوگئے تھے۔ 

پیر کے دن سٹاک ہوم شہر میں ٹرک حملے میں ہلاک شدگان کی یاد میں اہم حکومتی عمارتوں پر  قومی پرچموں کو سر نگوں کر دیا گیا  جبکہ گرجا گھروں میں  گھنٹیاں بھی بجائی گئیں۔ اس یادگاری تقریب میں سویڈن کے وزیراعظم کے ہمراہ کالے لباس میں ملبوس سویڈن کا شاہی خاندان، سرکاری وزراء اور ایمرجنسی سروسز کے اہلکار بھی شریک تھے۔

پولیس نے اس حملے میں ملوث 39 سالہ ازبک شخص کو اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق انہیں یقین ہے کہ اسی شخص نے شراب کی بوتلوں کے ٹرک کو اپنے قبضے میں لیتے ہوئے ڈیپارٹمنٹ اسٹور میں لوگوں کو روند دیا تھا۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق اس مشتبہ شخص کی سویڈن میں مستقل رہائش کی درخواست منسوخ ہوچکی تھی اور اس شخص نے دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

اس حملے نے سویڈن کے شہریوں پر یہ حقیقت عیاں کر دی ہے کہ ان کا ملک بھی ان دیگر یورپ ممالک کی طرح محفوظ نہیں ہے، جن کو دہشت گردانہ کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کئی افراد یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ سویڈن جو برداشت اور آزاد خیال پالیسیوں کے لیے جانا جاتا ہے وہاں پولیس اور سکیورٹی سروسز کو کسی ناخوش گوار واقعہ سے بچنے کے لیے زیادہ اقدامات کرنے چاہییں۔

سٹاک ہوم میں ایک بنک ملازم شنکر راماسپو نے روئٹرز کو بتایا،’’ میں اب بھی شہر جانے سے خوف زدہ نہیں ہوں لیکن کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔‘‘  کئی سویڈش شہری آج اس حملے کے بعد پہلے روز اپنے دفاتر گئے ہیں۔ جس ڈیپارٹمنٹ اسٹور پر حملہ کیا گیا تھا وہ پہلے ہی عوام کے لیے کھول دیا گیا تھا۔