1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

سویڈن نے سیاسی پناہ سے متعلق قوانین مزید سخت بنا دیے

سویڈن نے سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کے لیے قوانین مزید سخت بنا دیے ہیں۔ اس قانون کے مطابق ایسے تارکین وطن کو بھی انتظار کرنا پڑے گا، جو سویڈن میں مہاجرین کے طور پر پہلے سے رہائش پذیر اپنے اہل خانہ کے پاس جانا چاہتے ہوں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ سویڈش پارلیمان میں منظور کیے گئے اس نئے قانون کے تحت سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کے لیے عارضی ’ریذیڈنس پرمٹ‘ تین برس تک جاری نہیں کیا جائے گا۔ ساتھ ہی ایسے نئے مہاجرین کی ملک میں آمد بھی کم کر دی جائے گی، جو سویڈن میں پہلے سے سکونت پذیر اپنے اہل خانہ کے پاس جانا چاہتے ہوں۔

DW.COM

اکیس جون منگل کے روز سویڈش پارلیمان میں اس نئے قانون کے حق میں 240 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ 45 نے اس کی مخالفت کی۔ یہ قانون بیس جولائی سے نافذ العمل ہو جائے گا۔

اس نئے قانون کا اطلاق ایسے مہاجرین اور تارکین وطن پر ہو گا، جو گزشتہ برس چوبیس نومبر کے بعد سویڈن پہنچے ہوں یا جنہوں نے اس تاریخ کے بعد اپنی سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرائی ہوں۔

گزشتہ برس سویڈن کو مجموعی طور پر سیاسی پناہ کی ایک لاکھ ساٹھ ہزار نئی درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔

موجودہ قوانین کے تحت ایسے پناہ گزینوں کو، جنہیں تین برس کا عارضی ’ریذیڈنس پرمٹ‘ جاری کیا گیا ہے، اگر ملازمت مل جاتی ہے تو وہ مستقل ’ریذیڈنس پرمٹ‘ کے لیے درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ نئے قانون کے مطابق پناہ کے متلاشی ایسے افراد جنہیں ’پروٹیکٹڈ اسٹیٹس‘ حاصل ہے، وہ تیرہ ماہ کے لیے سویڈن میں رہ سکیں گے۔ اسی طرح اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے توسط سے سویڈن میں پناہ حاصل کرنے والے تارکین وطن بھی اس نئے قانون سے مستثنیٰ ہوں گے۔

اسٹاک ہولم حکومت کے مطابق ان نئے قوانین کا مقصد ملک میں پناہ کے متلاشی افراد کی آمد کا سلسلہ روکنا اور وہاں پہلے سے موجود تارکین وطن اور مہاجرین کو بہتر انداز میں آباد کرنا ہے۔

سویڈش حکومت میں شامل سوشل ڈیموکریٹک پارٹی اور گرین پارٹی نے اس نئے قانون کی حمایت کی جبکہ اپوزیشن کی اعتدال پسند اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں نے اس کی مخالفت کی۔

Schweden Integration von Migranten Schulunterricht

گزشتہ برس سویڈن کو مجموعی طور پر سیاسی پناہ کی ایک لاکھ ساٹھ ہزار نئی درخواستیں موصول ہوئی تھیں

یہ امر اہم ہے کہ سویڈن نے گزشتہ برس بھی سیاسی پناہ سے متعلق اپنے ملکی قوانین میں سختی کی تھی۔ مہاجرین کے بحران کی شدت کے نتیجے میں اسٹاک ہولم نے ڈنمارک سے متصل اپنی سرحدی گزرگاہوں کی نگرانی بھی بڑھا دی تھی جبکہ اچانک چیکنگ کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا تھا۔ مہاجرین اسی روٹ کا استعمال کرتے ہوئے ڈنمارک سے سویڈن میں داخلے کی کوشش کرتے ہیں۔

سویڈن میں سن 2014 سے اب تک مجموعی طور پر دو لاکھ پینتالیس ہزار مہاجرین اپنی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر شامی، افغان اور عراقی باشندے ہیں۔