1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

سویڈن: مہاجرین اب خیموں میں رہیں گے

سویڈن میں تارکین وطن کے لیے رہائش گاہیں کم پڑنے کی وجہ سے حکومت نے مہاجرین کو گرم خیموں میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں دو سو کے قریب پناہ گزینوں کو 17 عارضی خیموں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

سویڈن کے ادارہ برائے مہاجرت کی سیکشن چیف ربیکا بیشیس کے مطابق تارکین وطن کے پہلے گروپ کو شمالی سویڈن کے شہر ریوِنگے میں پناہ گزینوں کے لیے بنائی گئی پہلی خیمہ بستی میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

دیہی علاقے کا سرسبز میدان اور وہاں لگے سفید خیمے، یہ مناظر سویڈن میں اس سے قبل صرف نوّے کی دہائی میں دیکھے گئے تھے جب بلقان علاقوں سے جنگ کے باعث سویڈن نے ہزاروں تارکین وطن کو اپنے ہاں پناہ دی تھی۔

جمعے کے روز جب مہاجرین کہ پہلی کھیپ ان خیموں میں رہنے کے لیے پہنچی تو بیرونی درجہ حرارت پانچ ڈگری کے قریب تھا اور بارش بھی ہو رہی تھی۔ ہر خیمے میں بارہ افراد رہیں گے اور خیموں کو ہیٹروں کے ذریعے گرم رکھنے کا بندوبست کیا گیا ہے۔

فی الحال صرف اکیلے مردوں کو ان خیموں میں رکھا جائے گا۔ بیشیس کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کو عارضی طور پر ان خیمہ بستیوں میں رکھا جا رہا ہے۔ سویڈن میں مزید رہائش گاہوں کی تعمیر کے بعد انہیں یہاں سے منتقل کر دیا جائے گا۔ تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ رہائش گاہوں کی تعمیر میں کتنا وقت لگے گا۔

خیموں میں رہائش اختیار کرنے والے پہلے تارکین وطن کا تعلق افغانستان، الجزائر، عراق اور شام سے ہے۔ بیشین نے بتایا، ’’کچھ لوگ مسجد جانا چاہتے تھے اور چند خریداری کرنے، اس لیے ہم نے ان کے سفر کی خاطر ایک منی بس کا بندوبست بھی کیا ہے۔‘‘

جمعے کے روز بارش کے بعد کیمپ کے ارد گرد کیچڑ ہو گیا تھا۔ اسی وجہ سے ایک خیمے سے دوسرے خیمے تک جانے کے لیے زمین پر لکڑی کے تختوں کی مدد سے گزر گاہیں بنا دی گئی ہیں۔ خیموں میں گرم پنکھوں کی مدد سے حدت کا بندوبست تو کر دیا گیا ہے لیکن ان کی وجہ سے ہوا میں نمی کا تناسب بھی زیادہ ہو گیا ہے۔

اڑتیس سالہ ضیا الاوغلی بغداد کے ایک پرائمری اسکول میں پڑھاتا تھا۔ وہ آٹھ دنوں میں دس یورپی ممالک سے گزر کر سویڈن پہنچا ہے۔ الاوغلی بھی انہیں خیموں میں مقیم ہے۔ اس کا کہنا ہے، ’’ہمیں بتایا گیا ہے کہ یہاں ہمیں طویل عرصے تک رہنا ہو گا۔ باہر بہت سردی ہے لیکن خیمے کے اندر محسوس نہیں ہوتا۔ یہاں کا عملہ بھی بہت تعاون کرتا ہے۔‘‘

الجزائر سے تعلق رکھنے والے ایک انتیس سالہ پناہ گزین کا کہنا تھا کہ اگر اسے معلوم ہوتا کہ اسے سویڈن پہنچ کر خیموں میں رہائش اختیار کرنا پڑے گی تو وہ جرمنی جانے کو ترجیح دیتا۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر خدانخواستہ ایک بھی خیمے میں آگ لگ گئی تو ہم سب کا بچنا ناممکن ہو گا۔

سویڈن کی کل آبادی 9.8 ملین ہے اور اس کا شمار یورپ آنے والے پناہ کے متلاشی افراد کے پسندیدہ ممالک میں ہوتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ سویڈن کا سماجی بہبود کا نظام اور مہاجرین دوست قوانین ہیں۔ آبادی کے تناسب سے سویڈن نے کسی بھی دوسرے یورپی ملک سے زیادہ تارکین وطن کو پناہ دی ہے۔ لیکن اب سویڈن کے وسائل بھی تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔