1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

سویڈن، ’داعش کا مشتبہ جہادی‘ ملک بدر کر دیا جائے گا

سویڈن کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ انتہا پسند گروہ داعش کے ایک مشتبہ رکن کو فوری طور پر ملک بدر کر دے گی۔ بوسنیا سے تعلق رکھنے والے اس مشتبہ شخص کی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد ہو چکی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اسٹاک ہولم سے سویڈش حکومت کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس مشتبہ جہادی کی پناہ کی درخواست مسترد ہونے کے بعد اسے فوری طور پر ملک سے نکال دیا جائے گا۔

DW.COM

ملکی امیگریشن آفس کے مطابق، ’’اس فیصلے پر فوری عملدرآمد کیا جائے گا اور پولیس کو یہ ذمہ داری سونپی جا چکی ہے۔‘‘

اس چھیالیس سالہ شخص کا تعلق بوسنیا سے بتایا گیا ہے تاہم سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

اسٹاک ہولم میں حکام کے مطابق یہ مشتبہ شخص رواں ہفتے ہی اپنے چار بچوں کے ساتھ سویڈن پہنچا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ شینگن انفارمیشن سسٹم (ایس آئی یس) کے سکیورٹی ڈیٹا کے مطابق اس غیر ملکی کا تعلق ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش سے رہا ہے۔

سویڈن کے ایک اخبار نے بتایا ہے کہ اس مشتبہ جہادی کو پولیس کی نگرانی میں ایک خصوصی ہوائی جہاز کے ذریعے ساراژیوو منتقل کیا جائے گا۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس شخص کو رواں برس فروری میں ترکی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ شبہ تھا کہ وہ داعش کی طرف سے لڑ چکا ہے۔ بعد ازاں اسے ترک حکومت نے زبردستی واپس بوسنیا روانہ کر دیا تھا۔

بعد میں سویڈن پہنچنے پر اس شخص نے مہاجر کے طور پر اپنی پناہ کی درخواست جمع کرا دی تھی، جس کے بعد اسے مہاجرین کے ایک مرکز میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

تاہم صورتحال اس وقت متنازعہ ہو گئی تھی، جب ملکی پولیس نے یہ مطالبہ کر دیا تھا کہ اس شخص کو فوری طور پر ملک بدر کر دیا جائے۔ اس پر حکومت نے پولیس کے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس شخص کو جنیوا کنوینشن کے تحت پناہ کی درخواست جمع کرانے کا حق حاصل ہے۔

Schweden Räumung eines Roma-Lagers

یورپ کو دوسری عالمی جنگ کے بعد مہاجرین کے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے

یہ امر اہم ہے کہ بوسنیا سے تعلق رکھنے والے باشندوں کو عمومی طور پر سویڈن میں پناہ نہیں دی جاتی کیونکہ بوسنیا ہیرسے گووینا یورپی یونین میں شمولیت کا خواہش مند ملک ہے اور متعدد یورپی ممالک نے اسے ایک ’محفوظ ریاست‘ کا درجہ دے رکھا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں عمومی سیاسی صورت حال اور قانون کی بالادستی سے متعلق حالات سازگار ہیں اور وہاں سیاسی انتقام بھی نہیں لیا جاتا اور نہ ہی غیر انسانی سزائیں دی جاتی ہیں۔