1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

سویڈن اور ناروے کے درمیان ٹرین سروس معطل

مہاجرین کو روکنے کے لیے سویڈن نے بسوں اور ٹرینوں میں سفر کرنے والے مسافروں کے پاسپورٹ چیک کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلے کے باعث ٹرینیں تاخیر سے روانہ ہو رہی تھیں، اور آج ٹرین سروس معطل کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

سویڈن کی سرکاری ٹرین کمپنی، ایس جے، نے آج سویڈن اور ناروے کے درمیان اپنی سروس معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایس جے کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ان کے ادارے کے پاس اتنی انتظامی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ ناروے اور سویڈن کے درمیان روزانہ ہزاروں کی تعداد میں سفر کرنے والے مسافروں کی سفری دستاویزات کی پڑتال کر سکے۔

ٹرین کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ ان کی جانب سے پیش کردہ سفری سہولت اس وقت تک بند رہے گی جب تک دستاویزات کی جانچ پڑتال کرنے کا کوئی قابل عمل حل تلاش نہیں کر لیا جاتا۔

یورپ میں جاری مہاجرین کے موجودہ بحران کے دوران سویڈن میں آبادی کے تناسب کے اعتبار سے کسی بھی یورپی ملک سے زیادہ تارکین وطن پناہ حاصل کرنے کے لیے پہنچے ہیں۔

مشرق وسطیٰ سے مسلسل سویڈن کا رخ کرنے والے مہاجرین کو روکنے کے لیے سٹاک ہوم حکومت نے شینگن زون کی ’پاسپورٹ فری‘ سفری سہولت کے خلاف جاتے ہوئے اپنی شناختی دستاویزات چیک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نئے قانون کے مطابق اب سویڈن میں آنے والے تمام مسافروں کی شناختی دستاویزات کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ اس فیصلے کا اطلاق بسوں اور ٹرینوں میں سفر کرنے والے مسافروں پر بھی ہو گا۔

اس قانون کا اطلاق چار جنوری سے کیا جائے گا۔ نئے قانون کے نفاذ کے بعد ایسی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو جرمانہ بھی کیا جائے گا جو باتصویر شناختی دستاویزات کی پڑتال کیے بغیر کسی بھی مسافر کو سویڈن کی حدود میں لے کر آئیں گی۔ اس فیصلے کی وجہ سے سویڈن کی ٹرانسپورٹ کمپنیوں میں مایوسی اور غصہ پایا جاتا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان چلنے والی مسافر ٹرین کے آپریٹر، اورسُنڈزٹاگ کا کہنا ہے کہ وہ چار جنوری کے بعد سفری سہولت جاری رکھیں گے۔ تاہم شناختی دستاویزات کی چیکنگ میں وقت درکار ہونے کے باعث وہ رَش کے اوقات کار میں اپنی ٹرینوں کو تاخیر سے روانہ کریں گے۔

تاہم اورسُنڈزٹاگ نے اپنی ویب سائٹ پر مسافروں کے لیے پیشگی بُکنگ کی سروس عارضی طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

DW.COM