1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سویڈن اور ایٹمی بجلی گھر

بھارت اور چین اپنے ایٹمی پروگراموں کو وسیع تر کرنےکی پالیسی پر گامزن ہیں۔ روس عشروں سے بوشہر میں زیر تعمیر ایران کے ایٹمی بجلی گھر کو اسی سال مکمل کرنا چاہتا ہے۔

default

ایٹمی فضلے کو ٹھکانے لگانا اب بھی ایک بڑا مسئلہ سمجھا جاتا ہے

برلن کے جرمن ایٹمی فورم میں شرکت کرنے والوں کے لئے خوشیاں منانے کا جواز موجود ہے۔ انہیں امید ہے کہ جرمنی عام انتخابات سے قبل ہی ایٹمی بجلی گھروں سے دستبرداری کے فیصلے پر نظر ثانی کر سکتا ہے۔

سویڈن نے اس ضمن میں پہل کر دی ہے۔ وہاں کے وزیراعظم Fredrik Reinfeldt نے اپنے بیان میں کہا ’’ موجودہ حالات میں لوگ اپنے حکومتوں سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں اورہمیں ان کی امیدوں پر پورا اترنا ہوگا‘‘۔

اصل بات یہ ہے کہ یورپی حکومتی توانائی کی تلاش میں ہیں اورایٹمی بجلی گھر ایسی توانائی فراہم کرتے ہیں جو ماحول کو آلودہ نہیں کرتی اور قیمت کے لحاظ سے بھی فی الحال مناسب ہے۔

روایتی توانائی کے ماخذ تیل اور کوئلے کے ذخائربتدریج کم ہوتے جا رہے ہیں اس لئے بھی ایٹمی توانائی کی طرف واپسی کا راستہ کھلا ہے۔

تاہم ایٹمی بجلی گھروں میں پیش آنےوالے حادثات اب بھی تشویش کا باعث ہے۔ ایٹمی توانائی کے حوالے سے سب سے بڑا مسلہ ایٹمی فضلے کو ٹھکانے لگانا ہے۔ جرمن ایٹمی فورم کے صدروالٹرہوہلے فیلڈر نے بجا طور پر اس جانب توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسلہ تکنیکی طور پرحل تو کیا جا سکتا ہے لیکن پوری دنیا میں ابھی تک حل نہیں ہو سکا ہے۔ تبدیلی کی صرف امید ہی کی جا سکتی ہے۔ ایسی صورت حال میں نئے ایٹمی ری ایکٹرز پرسرمایہ کاری ایک خطرناک کھیل کے مترادف ہے۔

اس بات کے آثار موجود ہیں کہ ایٹمی توانائی کی طرف واپسی کا فیصلہ اقتصادی لحاظ سے غلط ثابت ہو سکتا ہے۔ یورینیم آج مہنگا بھی ہے اورناکافی بھی جبکہ اس کے مقابلے میں قابل تجدید توانائی کی جانب بڑی تیزی سے پیش رفت جاری ہے۔ سویڈن میں بھی اس جانب خاصا کام ہو رہا ہے۔ اگر ونڈ انرجی، شمسی توانائی اوربائیو ری ایکٹرز کی تنصیبات پر اٹھنے والے اخراجات میں کمی کا رجحان جاری رہا تواگلے چند برسوں تک ایٹمی بجلی گھر اقتصادی لحاظ سےغیر سودمند ہوکررہ جائیں گے۔