1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

سویڈن: الیگزینڈرا مظہر کے قاتل نوجوان مہاجر کو سزا

سویڈن کی ایک عدالت نے پناہ گزینوں کے مرکز میں کام کرنے والی بائیس سالہ خاتون کو قتل کرنے کے جرم میں ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے نوجوان پناہ گزین کو نفسیاتی علاج مہیا کرنے کے بعد ملک بدر کر دینے کی سزا سنائی ہے۔

رواں برس جنوری کے مہینے میں سویڈن میں نوجوان پناہ گزینوں کے ایک مرکز میں کام کرنے والی لبنانی نژاد بائیس سالہ الیگزینڈرا مظہر کو چاقو سے حملہ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ پولیس نے ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے پندرہ سالہ تارک وطن یوسف خلیف نور کو گرفتار کر کے اس پر اس قتل سے متعلق فرد جرم عائد کی تھی۔

جرمنی نے اس سال اب تک کتنے پاکستانیوں کو پناہ دی؟

جرمنی میں مہاجرین سے متعلق نئے قوانین

سویڈن کی ایک ضلعی عدالت نے آج اس مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے لکھا، ’’یوسف نور اپنے لاپرواہ رویے کے سبب الیگزینڈرا مظہر کے قتل کا باعث بنا۔ اسے قتل عمد کا مجرم قرار دیا جاتا ہے۔‘‘

عدالت نے یوسف نور کی ذہنی حالت کا جائزہ لینے کا حکم بھی دیا تھا جس دوران پتہ چلا تھا کہ اس کی ذہنی حالت غیر مستحکم ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ایسا امکان بھی ہے کہ یوسف اس بات سے بے خبر ہو کہ الیگزینڈرا مظہر کی ٹانگ پر آنے والا زخم اس کی موت کا سبب بن جائے گا۔

یوسف کی حتمی عمر تو معلوم نہیں ہے لیکن اس نے عدالت کو بتایا تھا کہ اس کی عمر پندرہ برس ہے۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ نور کی عمر کم از کم بھی اٹھارہ برس ہے۔ عدالت نے یوسف نور کا جسمانی معائنہ کر کے اس کی عمر کے تعین کا حکم بھی دیا تھا، جس کے نتائج کے مطابق اس کی عمر اٹھارہ برس قرار دی گئی تھی۔

یوسف نور نے اس وقت لبنانی نژاد سویڈش شہری الیگزینڈرا مظہر کو چاقو کے وار سے ہلاک کر دیا تھا جب وہ نابالغ تارکین وطن کے ایک مرکز میں ہونے والی لڑائی روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔ یوسف نے الیگزینڈرا کی مدد کی کوشش کرنے والے ایک اور شخص کو بھی چاقو سے حملہ کر کے زخمی کر دیا تھا۔

عدالت کے فیصلے کے مطابق یوسف نور کو نفسیاتی علاج مہیا کیے جانے کے بعد سویڈن سے ملک بدر کر دیا جائے گا اور وہ 2026ء سے پہلے دوبارہ سویڈن نہیں آ سکے گا۔

الیگزینڈرا مظہر کے خاندان کے وکیل نے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ایک مقامی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل کریں گے۔ الیگزینڈرا مظہر کے قتل کے بعد سویڈن میں مہاجرین اور تارکین وطن کے خلاف جرائم میں بھی اضافہ دیکھا گیا تھا۔

سویڈن کی مجموعی آبادی 9.8 ملین نفوس پر مشتمل ہے۔ گزشتہ برس کے دوران ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد مہاجرین نے سویڈن میں سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرائی تھیں۔ مجموعی آبادی کے تناسب سے یورپی یونین کی کسی رکن ریاست میں پناہ کی درخواستیں دینے والے مہاجرین کی یہ سب سے بڑی شرح بنتی ہے۔

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

ہمیں واپس آنے دو! پاکستانی تارکین وطن

DW.COM