1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سوڈان کے لئے امریکی مندوب کی تقرری

امریکہ نے سوڈان سے امدادی کارکنوں کی ملک بدری پر ایک مرتبہ پھر خرطوم حکومت کی مذمت کی ہے۔ واشنگٹن حکام کا کہنا ہے کہ دارفر کی صورت حال ہولناک ہے۔ صدر اوباما بدھ کو سوڈان کے لئے اپنے خصوصی مندوب کا اعلان بھی کر رہے ہیں۔

default

سوڈان کے صدر حسن البشیر

صدر اوباما ریٹائرڈ ایئر فورس جنرل اسکاٹ گریشن کی سوڈان کے لئے اپنے خصوصی مندوب کے طور پر تقرری کا اعلان کر رہے ہیں۔ اسکاٹ گریشن کو افریقی امور کا ماہر خیال کیا جاتا ہے، ان کی پرورش افریقہ ہی میں ہوئی ہے۔ وہ علاقائی زبان Swahili پر عبور رکھتے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اسکاٹ گریشن صدر اوباما کے دوست ہیں اور ان کی تقرری کا فیصلہ وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔

اُدھر ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ سوڈان سے 13 امدادی کارکنوں کی ملک بدری سے دارفر کے مصیبت زدہ شہریوں کی زندگیاں اور بھی غیرمحفوظ ہو گئی ہیں: "اصل سوال یہ ہے کہ صدر حسن البیشر اور خرطوم حکومت کو یہ بات کس طرح سمجھائی جائے کہ دارفر کے کیمپوں میں ہلاک ہونے والے ہر فرد کی موت کی ذمے داری ان پر ہوگی۔"

صدر حسن البشیر نے پیر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ایک سال کے دوران سوڈان سے تمام غیرملکی فلاحی تنظیموں کی سرگرمیاں ختم کر دی جائیں گی اور ان کے بجائے مقامی تنظیمیں کام کریں گی۔

گزشتہ دنوں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر صدر عمرحسن البشیر کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے تھے جس کے ردعمل میں خرطوم حکومت نے غیرملکی امدادی کارکنوں کی ملک بدری کا فیصلہ کیا تھا۔

ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ سوڈانی حکومت کی حمایت کرنے والے ممالک کا فرض ہے کہ وہ امدادی کارکنوں کی دارفر واپسی کو ممکن بنانے کے لئے صدر بشیر پر دباؤ ڈالیں۔ واضح رہے کہ چین کا شمار بھی صدر بشیر کی کھل کر حمایت کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق 2003 سے اب تک دارفر میں تین لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دو ملین سے زائد بے گھر ہوئے ہیں۔ سوڈانی حکومت کے مطابق چھ سالہ تنازعے میں مرنے والوں کی تعداد دس ہزار ہے۔